مکہ مکرمہ کے قریب ڈرون مار گرایا گیا، حوثیوں کی تردید
سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد نے منگل 3 نومبر کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ “مکہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو روک کر تباہ کر دیا گیا”، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈرون کہاں سے آیا تھا، اس کا ہدف کیا تھا، اور اس واقعے میں کوئی جانی یا مالی نقصان ہوا یا نہیں۔
حوثیوں نے حملے سے انکار کر دیا
یمن کے حوثی گروپ نے سعودی علاقے پر کسی بھی حملے سے انکار کرتے ہوئے اتحاد کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان کے گروپ نے منگل کو سعودی علاقوں کی طرف کوئی کارروائی نہیں کی۔ سعودی عرب ماضی میں بھی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کا الزام حوثیوں پر لگاتا رہا ہے، جبکہ حوثی ان الزامات کو منظم انداز میں مسترد کرتے آئے ہیں۔
ایک ہفتے میں دوسرا ایسا واقعہ
یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں مکہ مکرمہ کے علاقے میں ڈرون روکنے کا دوسرا اعلان ہے۔ اس سے قبل 30 اکتوبر کو بھی اتحاد نے مکہ کے علاقے کی طرف آنے والا ایک ڈرون مار گرانے کا اعلان کیا تھا، جسے اس وقت خاص طور پر حوثیوں سے منسوب کیا گیا تھا۔ 15 ستمبر کو بھی سعودی فضائی دفاع نے مکہ کے جنوب میں ایک ڈرون کو شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے تباہ کر دیا تھا۔
ایک روز قبل ریاض اور جنوبی علاقے میں بھی کارروائیاں
اتحاد کے مطابق اس واقعے سے ایک روز قبل بھی سعودی علاقے کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور دو ڈرون روکے گئے تھے۔ پیر کو اتحاد نے بتایا تھا کہ حوثیوں کی طرف سے سعودی عرب کے جنوبی علاقے کی طرف داغا گیا میزائل اور ریاض کے علاقے میں دو ڈرون تباہ کر دیے گئے۔ اس پس منظر میں خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
یمن میں 17 شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ
دوسری جانب حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی حملوں میں دو روز کے دوران یمن میں 17 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔ حوثی ذرائع کے مطابق یہ ہلاکتیں رواں ہفتے کے دوران ہونے والے سعودی حملوں میں ہوئیں۔ اس کے ساتھ ہی حوثیوں نے منگل کو سعودی عرب کے ابہا اور خمیس مشیط کے علاقوں میں ایک ہوائی اڈے اور ایک فضائی اڈے کو نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
خطے میں کشیدگی کا پس منظر
یمن کی جنگ اور خلیج میں جاری کشیدگی کے باعث سعودی عرب پر ڈرون اور میزائل حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد سے خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی ہے، اور تجارتی جہاز رانی بھی خطرے سے دوچار ہے۔ اسی دوران امریکا نے ایران کے جزیرہ قشم پر بھی کارروائی کی تھی، جس کے چند گھنٹے بعد مکہ کے علاقے میں ڈرون روکنے کا اعلان سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کا پہلا مقامی فضائی میزائل فائز کامیاب (https://niazitvnews.com/?p=3505) اور یوکرین پر روس کا بڑا حملہ: 289 ڈرون، اسپتال بھی نشانہ (https://niazitvnews.com/?p=3493)۔
ماخذ: ڈان/اے ایف پی، ڈیلی صباح، گلف نیوز، 3 نومبر 2026۔ دعوے اور تردید دونوں فریقوں کے بیانات کے طور پر درج کیے گئے ہیں۔