میر رضا علی کیس میں بڑی پیش رفت — جے آئی ٹی تشکیل کی سمری وزیراعلیٰ سندھ کو ارسال، پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی کمیٹی بھی قائم

0

کراچی: میر رضا علی کیس میں ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار کے مطابق جے آئی ٹی کی تشکیل کی سمری وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو منظوری کے لیے ارسال کر دی گئی ہے۔ وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی کی تشکیل سے متعلق قانونی اور انتظامی پیچیدگیاں دور کر دی گئی ہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید بتایا کہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی سے متعلق جوڈیشل کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کے لیے ڈی آئی جی ذوالفقار لارک کی سربراہی میں ایک الگ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے۔ یہ کمیٹی ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا جائزہ لے گی جن کی غفلت کا ذکر کمیشن کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

جے آئی ٹی کیسے تشکیل دی جائے گی؟

جوڈیشل کمیشن کی سفارشات کے مطابق نئی جے آئی ٹی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کی سربراہی میں تشکیل دی جائے گی۔ ٹیم میں آئی ایس آئی، انٹیلیجنس بیورو (آئی بی)، سندھ رینجرز اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے سینئر نمائندے بھی شامل ہوں گے۔

یہ فیصلہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد کیا گیا ہے۔ کمیشن نے اپنی 62 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں پولیس کی ابتدائی تفتیش کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پولیس اپنی سب سے بنیادی ذمہ داری یعنی سچائی تک پہنچنے میں ناکام رہی۔

کیس کا پس منظر

25 سالہ میر رضا علی 28 جولائی کو کراچی سے اپنے گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئے تھے۔ ان کے اہل خانہ نے اسی دن فیروزآباد پولیس اسٹیشن میں ان کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی۔ 29 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں ملی۔

پولیس نے ابتدائی طور پر موت کو خودکشی قرار دیا، تاہم اہل خانہ نے اس نتیجے کو چیلنج کیا اور جسم پر تشدد کے واضح نشانات کی نشاندہی کی۔ بعد ازاں عدالت کے حکم پر قبر کشائی کی گئی اور 8 اگست کو دوسرا پوسٹ مارٹم ہوا جس میں خودکشی کو خارج قرار دیتے ہوئے انکشاف ہوا کہ میر رضا کو پیچھے سے گولی مار کر قتل کیا گیا تھا۔

کمیشن کی سنگین سفارشات

جوڈیشل کمیشن نے رپورٹ میں پولیس کے کام کے پہلے دس دنوں کے دوران ہونے والی کوتاہیوں کی الگ اعلیٰ سطحی تحقیقات کی سفارش کی ہے۔ کمیشن کی تجویز کے مطابق فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کی سربراہی میں ایک کمیٹی اس بات کا جائزہ لے گی کہ کیا متعلقہ پولیس افسران نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 201، 166(2) اور 218 کی خلاف ورزی کی — یہ دفعات شواہد کے غائب ہونے، سرکاری ملازمین کی بدعنوانی اور غلط ریکارڈ تیار کرنے سے متعلق ہیں۔

کمیشن نے اپنی کارروائی کے دوران 15 سماعتیں کیں اور 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے۔ رپورٹ 15 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو پیش کی گئی تھی، جسے وزیراعلیٰ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کی منظوری کے بعد عوامی کیا گیا۔

میر رضا علی کے والد میر حسین نے جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا خاندان پہلے دن سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا مطالبہ کر رہا تھا۔ انہوں نے سندھ کے وزیراعلیٰ اور فریال تالپور کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ذرائع: اے آر وائی نیوز (22 اکتوبر 2026)، دی نیوز (21 اکتوبر 2026)، جوڈیشل کمیشن رپورٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *