ٹانک میں پولیو ٹیم کے 4 ارکان اغوا، تلاش جاری

0

خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ویکسینیشن ٹیم کے 4 ارکان کو اغوا کر لیا ہے، جب کہ پولیس کے مطابق ملزمان نے ورکرز کو فائرنگ کے بعد ایک گاؤں سے اٹھایا اور نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات اور مغویوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ جنوبی وزیرستان میں اسی روز اغوا ہونے والے پولیو ٹیم کے 2 ارکان کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔

ٹانک میں کیا ہوا

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ٹانک کا واقعہ شیخ عطر یونین کونسل کے ایک گاؤں میں پیش آیا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے پولیو ویکسینیشن ٹیم کے 4 ارکان کو فائرنگ کے بعد اغوا کیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان مغویوں کو نامعلوم مقام پر لے گئے ہیں اور ان کی شناخت یا ٹھکانے کے بارے میں فوری طور پر مزید تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ پاکستان ٹوڈے کے مطابق ٹیم کو ویکسینیشن ڈیوٹی کے دوران سفر کرتے ہوئے روکا گیا، جس کے بعد پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں نے تلاش کا عمل شروع کیا۔

جنوبی وزیرستان میں 2 ویکسینیٹرز رہا

ایک الگ واقعے میں لوئر جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں مسلح افراد نے پولیو ٹیم کے 2 ارکان کو اغوا کیا تھا، تاہم دونوں ویکسینیٹرز کو بعد میں رہا کر دیا گیا۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ذرائع نے اس اغوا کے ملزمان کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے بتایا ہے۔ دونوں واقعات کے درمیان تعلق کے بارے میں پولیس نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، اور ٹانک کے مغویوں کی حالت کے بارے میں بھی کوئی مصدقہ اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔

پولیو مہم کے دوران سیکیورٹی خدشات

یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب ملک بھر میں 2 سے 8 نومبر تک ذیلی قومی پولیو ویکسینیشن مہم جاری ہے، جس کا ہدف 97 اضلاع میں 5 سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔ خیبر پختونخوا میں مہم کے دوران 27 اضلاع میں 48 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر ہے، جب کہ بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زائد بچوں تک رسائی کے لیے 8,888 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ مہم کے پہلے ہی روز پیش آنے والے ان واقعات نے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والی پولیو ٹیموں کی سیکیورٹی پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جہاں ماضی میں بھی ویکسینیشن ٹیموں پر حملے ہو چکے ہیں۔

حکام کا ردعمل اور آگے کیا ہوگا

پولیس کے مطابق ٹانک میں مغویوں کی بازیابی کے لیے تحقیقات اور سرچ آپریشن جاری ہے، تاہم ابھی تک ملزمان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی کسی گروپ نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ پولیو پروگرام کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ مہم کے دوران اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، کیونکہ پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کا خاتمہ ابھی باقی ہے۔ حکام کے مطابق مہم کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ہر بچہ، چاہے وہ کسی بھی علاقے میں رہتا ہو، ویکسین سے محروم نہ رہے۔

مزید پڑھیں: کراچی میں پولیو ٹیموں کی حفاظت پر 8 ہزار پولیس تعینات https://niazitvnews.com/?p=3281 اور پولیو مہم 2 سے 8 نومبر تک جاری https://niazitvnews.com/?p=3208

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون (2 نومبر 2026)، پاکستان ٹوڈے (3 نومبر 2026) اور ڈان (2 نومبر 2026) کی خبروں کی بنیاد پر۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *