پاکستان مالدیپ تعاون مزید مضبوط کرنے پر متفق
پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے اور صدر مالدیپ کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران طے پانے والی مفاہمتوں پر عمل درآمد جاری رکھنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ اتفاق نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور مالدیپ کی وزیر خارجہ اروتھیشم آدم کے درمیان اتوار کو ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو میں ہوا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے اور تعاون کے مختلف شعبوں میں پیش رفت آگے بڑھانے کا عزم ظاہر کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو میں کیا طے ہوا
دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق مالدیپ کی وزیر خارجہ نے پاکستان کی جانب سے صدر مالدیپ محمد معیزو اور ان کے وفد کے حالیہ دورہ اسلام آباد کے دوران کی گئی پرتپاک میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دورے کے دوران طے شدہ امور پر عمل درآمد کے لیے قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا اور دوطرفہ تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
گفتگو میں دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس کے ایجنڈے اور کثیرالجہتی تعاون کے امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ مالدیپ کی وزیر خارجہ اس وقت اینٹیگوا اور باربوڈا میں دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے موجود ہیں، جہاں رکن ممالک کے درمیان مشترکہ چیلنجز اور تعاون پر بات ہو رہی ہے۔
مالدیپ کے صدر کا حالیہ دورہ کیوں اہم تھا
صدر مالدیپ کا حالیہ دورہ اسلام آباد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے کے دوران دونوں فریقین نے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر مفاہمت کی تھی، اور اب وزرائے خارجہ کی گفتگو اسی عمل کو آگے بڑھانے کی کڑی ہے۔ پاکستان اور مالدیپ جنوبی ایشیا کے دو مسلم اکثریتی ممالک ہیں اور دونوں کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور سفارتی روابط قائم ہیں۔
دونوں ممالک علاقائی تنظیموں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے رہے ہیں۔ دولت مشترکہ کے پلیٹ فارم پر ترقی پذیر ممالک کے مشترکہ مفادات، موسمیاتی تبدیلی اور معاشی تعاون جیسے موضوعات پر دونوں ممالک کے موقف میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔
اسحاق ڈار کی دیگر سفارتی مصروفیات
اسی روز اسحاق ڈار نے ازبکستان کے وزیر خارجہ بختیار سعیدوف سے بھی ٹیلی فونک گفتگو کی، جس میں 2027 میں ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کی تیاریوں پر تبادلہ خیال ہوا۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اس اجلاس کی تیاریوں میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
علاوہ ازیں، چین کی کمیونسٹ پارٹی کے بین الاقوامی شعبے کے وزیر لیو ہائی شنگ بھی اتوار کو اسلام آباد پہنچے، جہاں وہ آج پیر کو اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے اور اسحاق ڈار کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی تقریب کی مشترکہ صدارت کریں گے۔ ان مصروفیات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام آباد میں سفارتی سرگرمیاں اس وقت خاصی تیز ہیں۔
آگے کیا ہوگا
وزرائے خارجہ کی گفتگو کے بعد توقع ہے کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان طے شدہ امور پر عمل درآمد کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان رابطے تیز ہوں گے۔ دولت مشترکہ اجلاس کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی امور پر مزید مشاورت بھی متوقع ہے۔ تاہم، کسی نئے معاہدے یا دورے کا اعلان اس گفتگو میں نہیں کیا گیا، اس لیے آئندہ پیش رفت کا انحصار عملی اقدامات پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور امریکہ کی ثالثی سے متعلق دفتر خارجہ کے موقف پر ہماری رپورٹ دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=3200
اور پاکستان کی عالمی معاشی کردار سے متعلق خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3117
ماخذ: دی نیشن، بزنس ریکارڈر، دنیا نیوز، اردو پوائنٹ (اے پی پی) اور دفتر خارجہ پاکستان کا بیان، یکم تا 2 نومبر 2026۔