پاکستان گلوبل انوویشن انڈیکس میں 95ویں نمبر پر

0

پاکستان نے گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 میں چار درجے بہتری حاصل کرتے ہوئے 139 معیشتوں میں 95ویں پوزیشن حاصل کر لی ہے۔ عالمی دانشورانہ املاک کی تنظیم (وائپو) کے اس انڈیکس میں پاکستان 2025 میں 99ویں نمبر پر تھا، اور اب اس نے چوتھی بار اوورپرفارمر کا درجہ بھی دوبارہ حاصل کر لیا ہے۔ اوورپرفارمر کا مطلب یہ ہے کہ ایک معیشت اپنی آمدنی کی سطح کے لحاظ سے توقع سے زیادہ جدت پیدا کر رہی ہے۔

آؤٹ پٹ میں بہتری، ان پٹ میں کمزوری برقرار

ڈان کی 29 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے 2026 میں جدت کے آؤٹ پٹ میں ان پٹ کے مقابلے میں بہتر کارکردگی دکھائی۔ اس سال پاکستان انوویشن ان پٹس میں 121ویں اور انوویشن آؤٹ پٹس میں 72ویں نمبر پر رہا، اور دونوں درجہ بندیاں گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر ہوئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان محدود وسائل اور کمزور بنیادی ڈھانچے کے باوجود جدت کے نتائج پیدا کرنے میں توقع سے آگے ہے۔

وائپو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی مضبوطی بنیادی طور پر ڈیجیٹل معیشت میں ہے، خاص طور پر موبائل ایپ کی تخلیق، آئی سی ٹی خدمات کی برآمدات، ہائی ٹیک درآمدات اور سافٹ ویئر پر اخراجات میں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ملک کی نسبتاً مضبوط سائنسی پیداوار اور جامعات کے معیار نے ڈیجیٹل معیشت کو سہارا دیا ہے۔

کمپیوٹر ورلڈ پاکستان کے تجزیے کے مطابق پاکستان موبائل ایپ کی تخلیق میں دنیا میں 10ویں، آئی سی ٹی خدمات کی برآمدات میں 15ویں اور ہائی ٹیک درآمدات میں 19ویں نمبر پر ہے۔ دوسری جانب اداروں کے ستون میں پاکستان 126ویں، انسانی سرمائے اور تحقیق میں 119ویں اور بنیادی ڈھانچے میں 107ویں نمبر پر ہے، جو ساختی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔

خطے اور آمدنی گروپ میں پوزیشن

2026 کے انڈیکس میں پاکستان 36 کم درمیانی آمدنی والی معیشتوں میں 15ویں اور وسطی و جنوبی ایشیا کی 11 معیشتوں میں آٹھویں نمبر پر رہا۔ تاہم پاکستان کسی بھی انفرادی ستون، بشمول انسانی سرمایہ و تحقیق اور بنیادی ڈھانچہ، میں سرفہرست ممالک میں شامل نہیں ہو سکا۔

گزشتہ سات برسوں میں پاکستان کی درجہ بندی میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے: 2020 میں 107واں، 2021 میں 99واں، 2022 میں 87واں، 2023 میں 88واں، 2024 میں 91واں اور 2025 میں 99واں نمبر۔ 2026 میں 95ویں نمبر پر آنا اس سفر میں ایک مثبت موڑ ہے، اور پاکستان اس سے قبل 2022 اور 2024 میں بھی اوورپرفارمر کا درجہ حاصل کر چکا ہے۔

دنیا میں سب سے آگے کون؟

عالمی سطح پر سوئٹزرلینڈ، سویڈن اور امریکا بدستور سرفہرست تین جدت کی معیشتیں ہیں، جن میں سوئٹزرلینڈ مسلسل 16ویں سال پہلے نمبر پر ہے۔ جنوبی کوریا چوتھے اور سنگاپور پانچویں نمبر پر ہیں، جبکہ چین 10ویں نمبر پر رہ کر جدت کے رہنماؤں میں واحد درمیانی آمدنی والی معیشت ہے۔ 2025 کے بعد سے ٹاپ 15 میں کوئی نیا ملک شامل نہیں ہوا۔

جنوبی ایشیا میں بھارت 38ویں نمبر کے ساتھ خطے میں سب سے آگے ہے، جبکہ بھوٹان 74ویں، سری لنکا 94ویں اور پاکستان 95ویں نمبر پر ہیں۔ بنگلہ دیش 105ویں نمبر پر جنوبی ایشیا کے چھ ممالک میں سب سے نیچے ہے۔

پاکستان کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

وائپو کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں، بشمول پاکستان، اپنی نمایاں مضبوطیوں پر تعمیر کر کے مجموعی جدت کی کارکردگی بہتر بنا سکتی ہیں۔ پاکستان کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ڈیجیٹل معیشت، موبائل ایپس اور آئی ٹی خدمات کی برآمدات وہ شعبے ہیں جہاں ترقی ممکن ہے، بشرطیکہ اداروں، تحقیق اور بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں پر بھی توجہ دی جائے۔

رپورٹ میں عالمی سطح پر جدت کے ماحول کو گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ مشکل قرار دیا گیا ہے، جس میں 2025 میں تقریباً 3.4 فیصد عالمی نمو کے 2026 میں تقریباً 3 فیصد تک سست ہونے کی توقع ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت سے متعلق سرمایہ کاری کو مثبت پہلو کا اہم انجن قرار دیا گیا ہے، جس میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے 2025 اور 2026 میں اے آئی کے بنیادی ڈھانچے پر ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1605
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1202

ماخذ: ڈان اور پروپاکستانی کی 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس، وائپو گلوبل انوویشن انڈیکس 2026 کے حوالے سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *