پاکستان، جنوبی کوریا کا عدالتی معاہدہ، سیول میں دستخط

0

پاکستان اور جمہوریہ کوریا (جنوبی کوریا) کی سپریم کورٹس نے دوطرفہ عدالتی تعاون کی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ پیر 2 نومبر کو سیول میں طے پایا، جہاں چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی سرکاری دورے پر موجود تھے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ معاہدہ دونوں ملکوں کی عدلیہ کے درمیان ادارہ جاتی تعاون، عدالتی علم کے تبادلے اور تکنیکی جدت کے نئے راستے کھولے گا۔

سیول میں ملاقات اور دستخط

دورے کے دوران چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا کوریا کی سپریم کورٹ میں پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں ان کی ملاقات کوریائی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جو ہی ڈے سے ہوئی۔ دونوں چیف جسٹس صاحبان نے ادارہ جاتی تعلقات مضبوط بنانے، باہمی سیکھنے کے عمل کو فروغ دینے اور قریبی تعاون کے مواقع پر تفصیلی گفتگو کی۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں چیف جسٹس صاحبان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جسے پاکستان اور کوریا کے عدالتی تعلقات میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

معاہدے میں کیا طے پایا

مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں عدلیہ کے درمیان پائیدار ادارہ جاتی روابط کا ایک جامع فریم ورک قائم ہوگا، جس میں عدالتی وفود کے تبادلے، پیشہ ورانہ صلاحیت سازی، عدالتی تعلیم، مشترکہ تحقیق اور ادارہ جاتی تجربات کے تبادلے شامل ہیں۔ معاہدے میں عدالتی اصلاحات اور جدید کاری پر خاص زور دیا گیا ہے، جن میں الیکٹرانک عدالتی نظام، ڈیجیٹل انصاف، عدالتی انتظامیہ میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کا ذمہ دارانہ استعمال، اسمارٹ عدالتیں، عدالتی تجزیات اور سائبر سیکیورٹی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ باہمی عدالتی وفود، پیشہ ورانہ تربیت، مطالعاتی دوروں، ماہرین کے تبادلے، مشترکہ کانفرنسوں اور سیمینارز کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سطحی عدالتی مکالمے کا بھی اہتمام کیا جائے گا۔

اہمیت اور آئندہ اقدامات

سپریم کورٹ کے بیان کے مطابق یہ فریم ورک باہمی طور پر طے شدہ اقدامات کو مربوط کرنے اور آگے بڑھانے کے لیے ایک ادارہ جاتی طریقہ کار فراہم کرے گا، تاکہ تعاون کا عزم عملی اور مسلسل سرگرمیوں میں تبدیل ہو سکے۔ مبصرین کے مطابق اس معاہدے سے پاکستانی عدلیہ کو ڈیجیٹل عدالتوں اور جدید عدالتی نظم و نسق کے شعبے میں کوریا کے تجربے سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے گا، جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود دوستانہ تعلقات کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت نے سندھ کی تین انسداد دہشت گردی عدالتوں کے جج بحال کر دیے اور ایف سی سی کا فیصلہ، سپریم کورٹ کے فیصلے لازم نہیں۔

ماخذ: دی ایکسپریس ٹریبیون، سپریم کورٹ آف پاکستان کا بیان، 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *