پنجاب میں خطرناک اور خستہ اسکول عمارتوں میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی — ڈی پی آئی کا نوٹیفکیشن
ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشن (سیکنڈری ایجوکیشن) پنجاب نے صوبے بھر کے خطرناک اور خستہ حال اسکول عمارتوں اور کلاس رومز میں تدریسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ڈی پی آئی سیکنڈری ایجوکیشن قیصر رشید کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں سرکاری، نجی اور آؤٹ سورس تمام اسکولوں کے سربراہان کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی بچے کو کسی ایسی عمارت، کلاس روم یا احاطے کے حصے میں نہ بٹھایا جائے جو خطرناک، خستہ یا ساختی طور پر غیر محفوظ ہو۔
نوٹیفکیشن میں کیا حکم ہے؟
نوٹیفکیشن کے مطابق تمام اداروں کے سربراہان ایسی عمارتوں اور حصوں کو فوری طور پر خالی کریں اور ان کا استعمال بند کر دیں، اور جہاں ضرورت ہو طلبہ کو محفوظ کلاس رومز یا قریبی اسکولوں میں منتقل کیا جائے۔
متعلقہ مجاز تکنیکی ادارے کی منظوری کے بغیر کوئی بھی ایسی عمارت یا کلاس روم دوبارہ استعمال نہیں کی جا سکے گی۔
خلاف ورزی پر ذمہ داری کس کی؟
نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ہدایات پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے اگر کسی اسکول میں کوئی حادثہ پیش آیا تو غفلت کی ذمہ داری متعلقہ ادارے کے سربراہ پر عائد ہوگی۔ نجی اسکول کی صورت میں اس کا مالک یا انتظامیہ ذمہ دار ہوگی، جبکہ آؤٹ سورس اسکول کی صورت میں ذمہ داری اس کے آپریٹر یا انتظامیہ پر ہوگی۔ جہاں لاگو ہو، ثابت شدہ غفلت پر متعلقہ نگران افسران بھی ذمہ دار ٹھہریں گے، اور متعلقہ قوانین کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
اضلاع کے چیف ایگزیکٹو افسران تعلیم، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران، ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسران اور اسسٹنٹ ایجوکیشن افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے دائرہ اختیار میں ان ہدایات پر فوری عملدرآمد اور سخت نگرانی یقینی بنائیں۔
ڈی پی آئی کے مطابق بچوں کی حفاظت اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے کوئی خلاف ورزی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذرائع: اردو پوائنٹ/پاکستان پوائنٹ نیوز (18 اکتوبر 2026)۔