پی ٹی آئی کا بڑا قانونی وار — بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف پشاور ہائیکورٹ میں ترمیم شدہ درخواست دائر کر دی
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پیر کو پشاور ہائیکورٹ میں ایک ترمیم شدہ آئینی درخواست دائر کی ہے جس میں خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ (آرٹیکل 232(1)) اور گورنر راج (آرٹیکل 234(1)) کو چیلنج کیا گیا ہے۔
درخواست میں کیا موقف اختیار کیا گیا ہے؟
پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ صدر مملکت نے 11 اکتوبر کو صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی مگر خیبرپختونخوا اسمبلی سے اس کی کوئی قرارداد منظور نہیں کرائی گئی، جو آرٹیکل 232(1) کی پہلی شرط کے تحت لازم ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 14 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ سے منظور شدہ قراردادیں اس صوبائی شرط کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔
سہیل آفریدی کابینہ کی بحالی کا مطالبہ
اس سے قبل دائر کردہ درخواست میں سہیل آفریدی کی کابینہ کی بحالی کا مطالبہ بھی شامل تھا، اور نئی ترمیم شدہ درخواست اسی سلسلے کی اگلی قانونی چال ہے۔
سماعت منگل کو متوقع
پشاور ہائیکورٹ میں اس درخواست کی سماعت منگل کو متوقع ہے، جس میں عدالت ایمرجنسی کے نفاذ کے قانونی جواز کا جائزہ لے گی۔
وفاقی حکومت کا موقف
دوسری جانب وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے کی سیکیورٹی صورتحال ایمرجنسی کے نفاذ کا جواز پیش کرتی ہے۔ درخواست میں پی ٹی آئی کے تمام دعوے بطور دعویٰ پیش کیے گئے ہیں — حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
ذرائع: ای ٹی وی بھارت، دی ٹیلی گراف انڈیا (19 اکتوبر 2026)