پی ٹی آئی کے پی مذاکراتی کمیٹی، گورنر راج ختم کرنے کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا پارلیمانی پارٹی نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت سے مذاکرات کے لیے 6 رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی نے ساتھ ہی اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی میں کسی قسم کی گروپ بندی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ جمعے 30 اکتوبر کو پشاور میں پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا۔
پارلیمانی پارٹی کا متفقہ اعلامیہ
ایکسپریس ٹریبیون کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں ارکان کی اکثریت شریک ہوئی، جس میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، صوبائی جنرل سیکرٹری علی اصغر خان اور قائم مقام صوبائی صدر نور الحق قادری نے خصوصی دعوت پر شرکت کی۔ اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ پارلیمانی پارٹی نے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا ہے۔
اعلامیے کے مطابق پارٹی کے تمام سیاسی اور تنظیمی معاملات بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایات، باہمی مشاورت اور اجتماعی فیصلوں کی روشنی میں آگے بڑھائے جائیں گے۔ اجلاس نے یہ بھی طے کیا کہ مستقبل میں کسی بھی احتجاجی تحریک، مذاکرات یا سیاسی حکمت عملی میں صوبائی پارلیمانی پارٹی کو مؤثر نمائندگی دی جائے گی، اور پارلیمانی پارٹی کے باہمی اتفاق رائے سے ہونے والے گزشتہ فیصلوں کا احترام کیا جائے گا۔
6 رکنی مذاکراتی کمیٹی کیا کرے گی؟
ذرائع کے حوالے سے آج نیوز اور پاکستان پوائنٹ کی رپورٹوں کے مطابق مذاکراتی کمیٹی میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور، نور الحق قادری اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے تین ارکان شامل ہوں گے۔ کمیٹی وفاقی حکومت سے گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کے لیے بات چیت کرے گی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں 40 سے زائد ارکان شریک ہوئے اور یہ بھی طے ہوا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد پارٹی کارکنوں کو سڑکوں پر نہیں بلایا جائے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی، جس کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے درمیان سوشل میڈیا پر سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا تھا۔
سہیل آفریدی کی حمایت برقرار
ایک روز قبل پی ٹی آئی کی مرکزی سیکرٹریٹ نے بھی واضح کیا تھا کہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے عہدے میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔ ڈان کی 30 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سہیل آفریدی کو بانی چیئرمین عمران خان کی اعتماد اور حمایت حاصل ہے اور وہی پارٹی کے وزیراعلیٰ رہیں گے۔
نوٹیفکیشن میں پارٹی کے تمام ارکان، عہدیداروں، پارلیمنٹیرینز اور کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ وزیراعلیٰ کی تبدیلی یا کسی متبادل امیدوار کی نامزدگی سے متعلق اجلاس نہ بلائیں، نہ ایجنڈا پیش کریں اور نہ ہی اس پر بحث شروع کریں۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق نوٹیفکیشن میں یہ بھی کہا گیا کہ عمران خان کے سوا کوئی اور متبادل وزیراعلیٰ نامزد کرنے یا فیصلہ واپس لینے کا اختیار نہیں رکھتا۔
گورنر راج اور ایمرجنسی پر اعتراضات
پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کی سخت مخالفت کی گئی اور اسے عوامی مینڈیٹ، جمہوری اصولوں اور آئینی تقاضوں کے منافی قرار دیا گیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس اقدام کو آئینی، قانونی، عدالتی اور سیاسی فورمز پر چیلنج کیا جائے گا۔
اجلاس نے انسداد دہشت گردی کی آڑ میں سیاسی انتقام کی بھی مذمت کی، جس میں کارکنوں کے گھروں پر چھاپے، گرفتاریاں، ایم پی او کے تحت نظربندیاں اور ترقیاتی منصوبوں سے پی ٹی آئی کے جھنڈے اور سائن بورڈ ہٹانے کا ذکر کیا گیا۔ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ یہ اقدامات فوری طور پر روکے جائیں اور سیاسی کارکنوں کو آئینی و قانونی حقوق دیے جائیں۔
اجلاس نے عمران خان کی صحت پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور ان کی طبی حالت سے متعلق مستند معلومات، ان تک فوری رسائی اور اہل خانہ و وکلا کی ملاقات کا مطالبہ کیا۔ اسی طرح ان کی اہلیہ اور بہنوں کی حراست پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور ان کی رہائی اور طبی سہولتوں کا مطالبہ کیا گیا۔
قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے بھی سوال اٹھایا کہ ایک ہی صوبے کے مختلف علاقوں میں بیک وقت گورنر راج اور ایمرجنسی کیسے نافذ ہو سکتی ہے، اور پیپلز پارٹی سے اس معاملے پر اپنا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے خیبرپختونخوا میں دو ماہ کے لیے ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی قراردادیں منظور کی تھیں۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1297
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1328
ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، آج نیوز اور پاکستان پوائنٹ کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس؛ پارٹی اعلامیہ اور ذرائع کے حوالے سے بیانات کو اسی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔