ڈاکٹروں کی ہڑتال: یکم نومبر سے ملک گیر احتجاج

0

ملک بھر کی طبی تنظیموں نے یکم اور 2 نومبر کو دو روزہ ملک گیر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) سمیت دیگر تنظیموں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ہڑتال کے دوران ایمرجنسی کے سوا تمام طبی خدمات معطل رہیں گی۔

ہڑتال کا اعلان کہاں ہوا

کراچی میں پی ایم اے ہاؤس میں جمعرات کو ہونے والی پریس کانفرنس میں سینئر ڈاکٹروں نے یہ اعلان کیا۔ اس اجلاس میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن، ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن، پرائیویٹ اسپتال و کلینکس ایسوسی ایشن اور سوسائٹی آف آبسٹیٹریشنز و گائناکالوجسٹس کے نمائندے شریک تھے۔

پی ایم اے سینٹر کے صدر ڈاکٹر اظہر احمد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا نظام صحت مکمل تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، اور اس کی وجہ ڈاکٹروں کی مہارت یا لگن کی کمی نہیں بلکہ وہ ماحول ہے جس میں ڈاکٹروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کے بقول “ڈاکٹر کے ہاتھ شفا کے لیے ہیں، مگر آج پاکستان میں انہی ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگائی جا رہی ہیں اور ڈاکٹر پولیس چھاپوں، گرفتاری اور تشدد کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔”

ایف بی آر کے چھاپے اور پی او ایس کا تنازع

ڈاکٹروں کا سب سے بڑا اعتراض فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے نجی کلینکس پر چھاپوں اور ریٹیل طرز کے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) نظام کے نفاذ پر ہے۔ ڈاکٹر اظہر چوہدری نے کہا کہ ڈاکٹر کا کلینک شفا کی جگہ ہے، سپر مارکیٹ کا کاؤنٹر نہیں، اور طبی مشاورت کوئی تجارتی شے نہیں۔ ان کے مطابق معزز معالجین کو ٹیکس چوروں کی طرح برتنا اور کلینکس پر زبردستی چھاپے مارنا خوف کا ماحول پیدا کر رہا ہے۔

پی ایم اے سینٹر کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر عبدالغفور شورو نے کہا کہ کلینک پر ڈالا گیا ہر اضافی انتظامی بوجھ آخرکار مریضوں کی جیب پر پڑتا ہے، جو پہلے ہی ریکارڈ مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر ملک چھوڑنے پر مجبور ہو رہے ہیں، اس لیے نہیں کہ انہیں وطن سے محبت نہیں، بلکہ اس لیے کہ انہیں یہاں نہ تحفظ ملتا ہے، نہ عزت۔

طبی غفلت پر ایف آئی آر کا معاملہ

ڈاکٹروں کا دوسرا بڑا مطالبہ طبی غفلت کے الزامات میں براہ راست فوجداری مقدمات کے اندراج کو روکنا ہے۔ ڈاکٹر شورو نے کہا کہ ادویات کی کمی، مریض کی دیر سے آمد یا نظام کی خامیوں کے باعث ہونے والی اموات پر تعزیرات پاکستان کی دفعات 302 اور 322 کے تحت ڈاکٹروں کے خلاف مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔

ان کے بقول کوئی ڈاکٹر ایمرجنسی روم میں مریض کو کھونے کے لیے نہیں جاتا، اور کسی پیچیدگی یا قدرتی موت کو “قتل” قرار دینا سنگین ناانصافی ہے۔ طبی تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ کسی بھی ڈاکٹر کے خلاف قانونی کارروائی سے پہلے معاملے کا جائزہ کسی مصدقہ آزاد میڈیکل بورڈ سے لیا جائے، اور پارلیمنٹ ہیلتھ کیئر پروفیشنلز پروٹیکشن ایکٹ فوری طور پر منظور کرے۔

مریضوں پر کیا اثر پڑے گا

اعلان کے مطابق ہڑتال کے دو دنوں میں ایمرجنسی خدمات جاری رہیں گی، جب کہ او پی ڈیز اور نجی کلینکس بند رہنے کا امکان ہے۔ بلوچستان میں پی ایم اے پہلے ہی 28 اکتوبر کو یکم نومبر سے صوبہ گیر ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر چکی ہے، جس کی وجہ ایف بی آر اور بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے ٹیکسز بتائے گئے تھے۔

طبی تنظیموں نے یہ بھی کہا ہے کہ 28 نومبر کو پی ایم اے سینٹرل کونسل کے اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ مریضوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ یکم اور 2 نومبر کو غیر ضروری اسپتال جانے سے پہلے اپنے متعلقہ اسپتال یا کلینک سے صورتحال کی تصدیق کر لیں۔

مزید پڑھیں: لاہور دنیا کا آلودہ ترین شہر، فضائی آلودگی سے صحت کو خطرات (https://niazitvnews.com/?p=2680) اور کراچی پولیو کیس کے بعد سندھ حکومت کا ہنگامی اجلاس (https://niazitvnews.com/?p=1342)۔

ذرائع: ڈان، پرو پاکستانی اور میڈیکل نیوز کی 28 تا 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *