ایران حملہ آپشن: ٹرمپ کو سینٹ کام سربراہ کی بریفنگ
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے آپشنز پر براہ راست بریفنگ دی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام اور اجلاس سے براہ راست واقف افراد کے حوالے سے یہ خبر دی ہے، جس کے بعد خطے میں نئی جنگ کے خدشات ایک بار پھر بڑھ گئے ہیں۔
بریفنگ میں کون شریک تھا
رپورٹ کے مطابق بریفنگ میں وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین بھی شریک تھے، جب کہ کابینہ کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں ایران کے علاوہ امریکا کی جاری بحری ناکہ بندی سمیت دیگر موضوعات پر بھی بات ہوئی۔
ایک ذریعے کے مطابق اس سے ایک روز قبل بدھ کو بھی فوجی حکام نے وائٹ ہاؤس میں نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کی تھی۔ وال اسٹریٹ جرنل نے لکھا ہے کہ سینٹ کام کے سربراہ کا صدر کو براہ راست بریفنگ دینا غیر معمولی بات ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہو سکتی ہے کہ امریکا بڑی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے قریب تر ہو رہا ہے۔
مڈٹرم انتخابات کے بعد مہم کا امکان
وال اسٹریٹ جرنل کی پہلے کی رپورٹنگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے حکام نے عرب خلیجی ریاستوں کو بتایا ہے کہ وہ امریکی مڈٹرم انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم کے لیے تیار رہیں۔ انتخابات آئندہ ہفتے منگل کو ہونے ہیں، اور اسی تناظر میں یہ بریفنگ خاصی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔
پینٹاگون نے حالیہ ہفتوں میں مشرق وسطیٰ میں اضافی فضائی دفاعی نظام، گولہ بارود اور رسد بھیجی ہے، جب کہ بعض اہلکاروں کو ممکنہ ایرانی جوابی حملوں سے بچانے کے لیے کمزور مقامات سے ہٹایا گیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک جلسے میں بھی نئی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ “ہم ایک اور چھوٹی ایپک فیوری کر سکتے ہیں، یا وہ معاہدہ کر لیں گے” — ایپک فیوری اس سال کے شروع میں ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی بمباری مہم کا نام تھا۔
ایران کی وارننگ اور سفارتی رابطے
دوسری جانب ایران نے عوامی سطح پر اور نجی سفارتی رابطوں میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو وہ خطے میں امریکی اور خلیجی ممالک کے اہداف کو نشانہ بنائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جمعرات کو کہا کہ واشنگٹن کا “گاجر اور چھڑی” والا رویہ تہران کو نہیں جھکا سکے گا، اور امن مذاکرات میں پیش رفت ایران کی سات بنیادی شرائط تسلیم کرنے سے مشروط ہے۔
امریکی سینیٹر کرس مرفی نے بھی اس ہفتے ایک تقریب میں کہا تھا کہ انہوں نے ایک خفیہ بریفنگ میں نئی فوجی کارروائی کے منصوبوں پر بات کی ہے، جب کہ بعض ارکان کانگریس نے ٹرمپ کے تہران سے دشمنی دوبارہ شروع کرنے کے امکان پر تشویش ظاہر کی ہے۔ پینٹاگون اور سینٹ کام کے ترجمانوں نے اس اجلاس پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
پاکستان کے لیے کیوں اہم ہے
ایران کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ پاکستان کے لیے براہ راست اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز سے عالمی تیل کی تجارت گزرتی ہے اور خطے میں کسی بھی نئی جنگ کے اثرات تیل کی قیمتوں، تجارت اور سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان پہلے ہی سلامتی کونسل میں عالمی جہاز رانی کو تنازعات سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کر چکا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران نے آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان کر دیا (https://niazitvnews.com/?p=2676) اور یوکرین نے روسی ریفائنریوں پر حملے روک دیے (https://niazitvnews.com/?p=2702)۔
ذرائع: وال اسٹریٹ جرنل، ٹائمز ناؤ، وائی نیٹ نیوز اور نیوز میکس کی 29 تا 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔