ڈنیپرو اسٹیشن پر روسی ڈرون حملہ، 14 افراد ہلاک

0

یوکرین کے وسطی شہر ڈنیپرو کے مرکزی ریلوے اسٹیشن پر جمعرات 29 اکتوبر کو ایک روسی ڈرون حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔ یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے اس حملے کو خوفناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک عام پلیٹ فارم پر ہوا، جہاں ایک عام مسافر ٹرین اور ایک کمیوٹر ٹرین کھڑی تھیں۔ علاقائی حکام کے مطابق زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک ہے، جن میں ایک 11 سالہ بچہ بھی شامل ہے۔

حملہ کیسے ہوا

یوکرین کی سرکاری ریلوے کمپنی یوکرزالیزنیتسیا کے مطابق ایک جیٹ سے چلنے والا ڈرون ڈنیپرو کے مرکزی اسٹیشن کے اس پلیٹ فارم سے ٹکرایا، جہاں زاپوریژیا جانے والی ٹرین روانگی کے لیے تیار کھڑی تھی۔ ڈنیپروپیٹروفسک کے علاقائی گورنر اولیکساندر گانژا نے جمعرات کی دوپہر تک ہلاکتوں کی تعداد 14 تک پہنچنے کی تصدیق کی۔ یوکرین کی فضائیہ کے مطابق دن کے وقت ہونے والے اس حملے میں تین جیٹ ڈرون روک لیے گئے تھے، مگر چوتھا ڈرون اسٹیشن تک پہنچ گیا۔ ریلوے حکام نے بتایا کہ حملے سے قبل خطرے کی سطح بلند کرنے کا اعلان کیا جا چکا تھا۔ یوکرین کی ایمرجنسی سروس کی جاری کردہ تصاویر میں پلیٹ فارم پر لاشیں اور زخمیوں کو اسٹریچرز پر لے جاتے ریسکیو اہلکار دکھائی دیے۔

زخمیوں کی حالت اور دیگر حملے

علاقائی حکام کے مطابق 14 زخمیوں میں سے 6 شدید زخمی ہیں، جنہیں متعدد مقامات پر چھرے لگے ہیں۔ ان میں ایک 11 سالہ لڑکا بھی ہے، جبکہ ایک شخص کی دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اسی روز دیگر شہروں میں ہونے والے حملوں میں مزید 5 افراد ہلاک ہوئے، اور رات گئے کیف پر میزائل حملے میں ایک شخص جان سے گیا۔ یوکرین کے صدر نے ان حملوں کو بہت ظالمانہ اور جان بوجھ کر کیا گیا قرار دیا، اور کہا کہ یہ اس وقت ہوئے جب سب کو کشیدگی میں کمی کے اقدامات کی توقع تھی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یوکرین کے پاس اس بارے میں اطلاعات ہیں کہ روس نئے بیلسٹک میزائل حملوں کی تیاری کر رہا ہے۔

زیلنسکی کا ردعمل اور پابندیوں کا مطالبہ

صدر زیلنسکی نے اتحادی ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ روس پر دباؤ بڑھائیں اور ماسکو اور اس کی جنگی مشین پر عائد پابندیاں اس وقت تک نرم نہ کی جائیں جب تک یہ جنگ جاری ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب سے بعض روسی شخصیات اور توانائی کے شعبے پر پابندیاں اٹھائی گئی ہیں، روس نے اپنے عوام پر کتنے دہشت گردانہ حملے کیے ہیں۔ ان کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے درمیان اس ماہ طے پانے والے اس معاہدے کی طرف اشارہ تھا، جس کے تحت امریکا کو روسی ڈیزل درآمد کرنے کی اجازت ملی تھی۔ یوکرین کے صدر نے امریکا، یورپ اور جی سیون ممالک سے روس پر مزید پابندیاں لگانے کا بھی مطالبہ کیا۔

جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان حملہ

یہ حملہ اس وقت ہوا جب یوکرین اور روس کے درمیان جنوبی شہر اولیشکی میں ایک نازک مقامی جنگ بندی تیسرے روز میں داخل ہو رہی تھی۔ اولیشکی 2022 سے روسی قبضے میں ہے، جہاں کے رہائشیوں کو خوراک، پانی اور ادویات کی قلت کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک نے کہا کہ یہ مقامی جنگ بندی برقرار ہے، اور یوکرین کے انسانی حقوق کے محتسب نے اس حوالے سے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔ اس پس منظر میں ڈنیپرو حملے نے سفارت کاری کی بحالی کی امیدوں کو دھچکا پہنچایا ہے۔ روس کی فوج نے اس حملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے، جبکہ ماسکو عام طور پر شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کے ریلوے پر حملوں کا مقصد فوجی ساز و سامان کی نقل و حرکت کو روکنا ہے۔

یوکرین جنگ کے عالمی اثرات پر عالمی طاقتیں بھی سرگرم ہیں، جہاں کیف پر روس کے میزائل حملے کے بعد اب ڈنیپرو کا واقعہ سامنے آیا ہے، جبکہ ایران کے امن منصوبے اور خطے کی کشیدگی پر بھی عالمی توجہ مرکوز ہے۔

ذرائع: رائٹرز، گلف نیوز، چینلز ٹیلی وژن اور تھرسڈے ٹائمز کے مطابق۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *