کراچی: پولیو ٹیموں کی حفاظت پر 8 ہزار پولیس تعینات
کراچی میں انسداد پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے 8 ہزار سے زائد پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ یہ اقدام پیر 2 نومبر سے شروع ہونے والی ایک ہفتے کی قومی انسداد پولیو مہم کے دوران اٹھایا گیا ہے، جو 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ کراچی کے کمشنر سید حسن نقوی کے مطابق ماضی میں ویکسینیشن مہمات کے دوران حفاظتی ٹیموں پر حملوں کے پیش نظر ٹیموں کی حفاظت کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔
کراچی میں سخت حفاظتی انتظامات
کراچی میں حساس علاقوں میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جبکہ اسنیپ چیکنگ اور موبائل و موٹر سائیکل گشت میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ورکرز کو ہر حال میں تحفظ فراہم کیا جائے گا تاکہ مہم کے دوران کوئی بچہ قطرے پلانے سے محروم نہ رہے۔ سندھ میں صحت کے حکام کا ہدف 20 اضلاع میں 68 لاکھ بچوں کو ویکسین دینا ہے، جن میں کراچی کے تمام اضلاع شامل ہیں۔ سندھ کے سیکرٹری صحت طاہر حسین سانگی نے ہفتے کو کراچی کے ڈسٹرکٹ ایسٹ میں خالد جمیل ڈسپنسری میں مہم کا افتتاح کیا اور والدین سے اپیل کی کہ کوئی بچہ قطرے پلانے سے رہ نہ جائے۔
ملک بھر میں 97 اضلاع میں مہم
یہ مہم صرف کراچی تک محدود نہیں۔ ملک بھر کے 97 منتخب اضلاع میں 2 کروڑ 40 لاکھ سے زائد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ اس مہم میں دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت چل رہی ہے، جو دنیا کے وہ واحد دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس ابھی بھی موجود ہے۔
صوبوں کے اہداف بھی واضح ہیں: پنجاب میں 13 منتخب اضلاع میں تقریباً 93 لاکھ بچوں، بلوچستان میں 31 اضلاع میں 22 لاکھ سے زائد بچوں اور خیبر پختونخوا میں 27 اضلاع میں 48 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ بلوچستان نے 8,888 ویکسینیشن ٹیمیں تشکیل دی ہیں اور وہاں نومبر 2024 کے بعد سے کوئی پولیو کیس رپورٹ نہیں ہوا۔
تازہ کیس کے بعد مہم کی اہمیت
یہ مہم خیبر ضلع میں ایک بچی میں پولیو کیس کی تصدیق کے بعد شروع ہوئی ہے۔ نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق متاثرہ بچی کا تعلق باڑہ تحصیل کی جان باز یونین کونسل سے ہے۔ حکام نے زور دیا ہے کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں، مگر بروقت ویکسینیشن سے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ اس سال اب تک ملک میں چار بڑی قومی مہمات کے ذریعے چار کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے، اور ستمبر کی مہم میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے تھے۔
سندھ میں صورتحال پر بھی حکام کی نظر ہے، جہاں اس ماہ ماحولیاتی نمونوں میں چھ نمونے پولیو وائرس کے لیے مثبت آئے ہیں، جبکہ پچھلے ماہ صرف ایک نمونہ مثبت آیا تھا۔ اسی لیے صحت کے حکام نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسینیشن ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں اور اپنے دروازے ان کے لیے کھولیں۔
پولیو مہمات کے بارے میں تازہ ترین خبریں اس سائٹ پر باقاعدگی سے شائع ہوتی رہی ہیں، جیسا کہ خیبر میں پولیو کا تازہ کیس (https://niazitvnews.com/?p=3178) اور پنجاب میں 93 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کی مہم (https://niazitvnews.com/?p=3208) کی خبروں میں بتایا گیا تھا۔
والدین سے گزارش ہے کہ وہ 2 سے 8 نومبر کے دوران آنے والی ٹیموں سے اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، یا قریبی مقررہ ویکسینیشن مرکز سے رجوع کریں۔ ہر مہم میں قطرے پلانا ہی بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچانے کا واحد راستہ ہے۔
ماخذ: دی ہندو، ہیوم انگلش، ایکسپریس ٹریبیون، دی نیشن — 2 نومبر 2026