سیالکوٹ بھگدڑ: مسٹر پٹلو کی مریم نواز سے اپیل

0

سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر کی مہندی کی تقریب کے دوران بھگدڑ میں 2 افراد کی ہلاکت کے بعد مرکزی ملزم محمد انصار عرف مسٹر پٹلو نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے مدد کی اپیل کر دی ہے، جب کہ پولیس کے مطابق مقدمے میں نامزد 6 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور مسٹر پٹلو سمیت باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

بھگدڑ کیسے ہوئی؟

پولیس اور ڈان کی رپورٹ کے مطابق واقعہ ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آیا، جہاں ٹک ٹاکر کی مہندی اور انعامی تقریب کے لیے سینکڑوں افراد جمع ہوئے تھے۔ تقریب میں لکی ڈرا کے ذریعے 50 موٹر سائیکلیں اور ایک کار دینے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے بعد ہجوم بے قابو ہو گیا۔ پولیس کے مطابق لاؤڈ اسپیکر پر سب کو بیک وقت گراؤنڈ میں داخل ہونے کا اعلان کیا گیا تو گیٹ پر دھکم پیل ہوئی اور بھگدڑ مچ گئی۔
بھگدڑ میں موقع پر محمد عقیل (30) جاں بحق ہوئے، جب کہ زخمی محمد ریحان لاہور میں زیر علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئے، یوں ہلاکتوں کی تعداد 2 ہو گئی۔ ڈان کے مطابق اس واقعے میں 18 افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے لکی ڈرا کے لیے رکھی گئی 50 موٹر سائیکلیں اور کار بھی قبضے میں لے لی ہیں۔

مقدمہ اور گرفتاریاں

موٹرہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او مبین احمد کی مدعیت میں درج مقدمے میں ٹک ٹاکر محمد انصار عرف مسٹر پٹلو، ان کے بھائی کاشف بشیر، فراز اسپورٹس اسٹیڈیم کے مالک شاہد جاوید سمیت 9 نامزد ملزمان اور 45 نامعلوم سیکیورٹی گارڈز شامل ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان پر اجازت کی شرائط کی خلاف ورزی، ایس او پیز کی پامالی، لاؤڈ اسپیکر کے غلط استعمال، مرکزی سڑک کی بندش، توڑ پھوڑ اور جان و مال کے نقصان سمیت غفلت سے موت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سیالکوٹ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ریٹائرڈ کیپٹن دوست محمد نے تصدیق کی ہے کہ تقریب کے انتظامات سے وابستہ 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جب کہ باقی نامزد ملزمان کی گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ پولیس کے مطابق واقعے کے فوراً بعد مسٹر پٹلو موقع سے فرار ہو گئے تھے اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

این او سی منسوخ ہونے کا دعویٰ

ضلعی انتظامیہ کے ترجمان کے مطابق ٹک ٹاکر کو ڈسکہ میں بند جگہ پر نجی تقریب کے دوران محفل سماع (قوالی) کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کیا گیا تھا، جس میں پروگرام عشاء کی نماز کے بعد شروع کرنے کی شرط تھی۔ ترجمان کے مطابق منتظمین نے شام 4 بجے سے ہی شرائط کی خلاف ورزی شروع کر دی، جس پر ڈپٹی کمشنر اویس مشتاق نے رپورٹ کا جائزہ لے کر این او سی منسوخ کر دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تقریب شروع ہونے سے پہلے ہی منسوخ کر دی گئی تھی۔

مسٹر پٹلو کا موقف اور اپیل

دوسری جانب مسٹر پٹلو نے ایک ویڈیو بیان میں واقعے کی ذمہ داری سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بھگدڑ کے وقت وہ اسپتال میں تھے۔ ان کے مطابق انہوں نے تقریب کے لیے این او سی حاصل کیا تھا، مگر بعد میں اسے خود منسوخ کر دیا تھا۔ ویڈیو بیان میں انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سمیت حکومت سے مدد کی اپیل کرتے ہوئے اپنی خراب صحت اور اپنے والد کی بگڑتی حالت کا حوالہ دیا۔ واضح رہے کہ یہ ان کا اپنا دعویٰ ہے، پولیس نے انہیں مقدمے میں نامزد کیا ہوا ہے اور ان کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔
اس سے قبل اسی واقعے میں دوسری ہلاکت کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3182 ۔ پنجاب میں وائرل ویڈیوز سے جڑے پولیس واقعات پر ایک اور حالیہ خبر یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=3257 ۔
ماخذ: ڈان (2 نومبر 2026)، آج نیوز انگریزی (2 نومبر 2026)، لاہور مرر (2 نومبر 2026)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *