ایران: آبنائے ہرمز 2 دن میں کھولنے کا منصوبہ
ایران نے آبنائے ہرمز کو معاہدے کے 2 دن کے اندر کھولنے کی تجویز پیش کر دی ہے، جب کہ دوحہ میں قطری ثالثوں کے ساتھ مذاکرات تیسرے روز بھی جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق ہرمز کی بحالی سے متعلق دو روزہ تجویز پر بات چیت ہو رہی ہے، تاہم ابھی کوئی حتمی نتیجہ نہیں نکلا۔
دوحہ مذاکرات میں کیا ہو رہا ہے؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایرانی مذاکرات کار اتوار کو دوحہ میں تیسرے روز بھی قطری ثالثوں سے ملاقاتوں میں مصروف رہے، جن کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔ عراقچی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ تہران دفاع اور سفارت کاری دونوں کے لیے تیار ہے، اور انہوں نے امید ظاہر کی کہ دوسری جانب عقل سے کام لے کر سفارت کاری کو ترجیح دی جائے گی۔
الجزیرہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ایرانی اور قطری مذاکرات کاروں نے ایک ایسی تجویز تیار کی ہے جس کے تحت واشنگٹن سے ممکنہ معاہدے کے 2 دن کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔ اس سے قبل ایران نے ایک ہفتے کی مدت کی تجویز دی تھی، جسے اب کم کر کے 2 دن کر دیا گیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ منصوبہ اس صورت میں آگے بڑھے گا جب امریکہ ایران کی شرائط سے اتفاق کرے۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کی کال
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات ٹھیک چل رہے ہیں، تاہم ابھی ایک یا دو اہداف باقی ہیں جن سے نمٹنا ضروری ہے۔ امریکی میڈیا ایکسیوس کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات کی، جس میں ایران کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کے وقت اور طریقے پر تبادلہ خیال ہوا۔ ایکسیوس کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ایران پر حملوں پر زور دیا، جب کہ ٹرمپ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے خلیجی ممالک کو بھی آگاہ کیا ہے کہ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ایک مختصر مگر شدید فوجی مہم ممکن ہے۔ ایران کی جانب سے پاسداران انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ ایرانی افواج دشمن کو نقصان پہنچانے اور مکمل روک تھام کے لیے ایک وسیع میدان جنگ طے کر چکی ہیں اور پہلے سے زیادہ تیار ہیں۔
ٹینکرز کے دھماکوں کا دعویٰ
اسی دوران پاسداران انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اتوار کو آبنائے ہرمز میں 2 آئل ٹینکرز، جن میں ایک سپر ٹینکر بھی شامل ہے، غیر مجاز راستے پر سفر کے دوران بحری سرنگوں سے ٹکرا کر دھماکوں کا شکار ہوئے اور روک دیے گئے۔ آئی آر جی سی کے مطابق دونوں جہازوں نے اپنے نیوی گیشن اور شناختی نظام بند کر رکھے تھے اور وارننگز کو نظر انداز کیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ آئی آر جی سی کا دعویٰ ہے، جس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے بھی اتوار کو آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع دی تھی۔ یہ واضح نہیں کہ یہ واقعہ آئی آر جی سی کے بیان کردہ ٹینکرز سے متعلق تھا یا الگ واقعہ تھا۔ اس سے قبل پاکستان جانے والے قطری ایل این جی ٹینکر پر حملے کی خبر بھی سامنے آئی تھی، جس کی تفصیل یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3165 ۔ تیل کی قیمتوں میں حالیہ اتار چڑھاؤ پر خبر یہاں ملاحظہ کریں: https://niazitvnews.com/?p=3231 ۔
تیل کی قیمتوں پر اثر
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اور اس کی بندش یا پابندیوں سے عالمی تیل کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پیر 2 نومبر کو عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر ٹریڈ کر رہا تھا، جب کہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی بھی 100 ڈالر سے اوپر تھا۔ ماہرین کے مطابق ہرمز کی مکمل بحالی تیل کی قیمتوں میں استحکام لا سکتی ہے، جب کہ کشیدگی میں اضافہ قیمتوں کو مزید اوپر دھکیل سکتا ہے۔
ماخذ: سی جی ٹی این (2 نومبر 2026)، روئٹرز (یکم نومبر 2026)، الجزیرہ، گلف نیوز (2 نومبر 2026)، جیروزلم پوسٹ (یکم/2 نومبر 2026)۔