گلگت بلتستان یوم آزادی: شہباز شریف آج دورہ کریں گے
گلگت بلتستان آج یکم نومبر کو اپنا یوم آزادی منا رہا ہے، اور وزیراعظم شہباز شریف آج اس تاریخی دن کی تقریبات میں شرکت کے لیے خطے کا دورہ کرنے والے ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر کے مطابق شہباز شریف کا یہ دورہ اس وقت ہو رہا ہے جب حکومت نے گلگت بلتستان کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یوم آزادی کی تاریخی اہمیت
یکم نومبر گلگت بلتستان کے لیے تاریخی دن ہے۔ اسی دن 1947 میں خطے کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کی اور بعد ازاں پاکستان سے الحاق کیا۔ ہر سال یکم نومبر کو اسی تاریخی جدوجہد اور الحاق کی یاد میں تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں بھی گلگت بلتستان کے عوام کو اس تاریخی دن پر خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبے تیز کرنے کا حکم
وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز اسلام آباد میں گلگت بلتستان کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ امجد حسین نے خصوصی طور پر شرکت کی، جبکہ وفاقی وزرا احسن اقبال، اعظم نذیر تارڑ، عبدالعلیم خان، مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، شازہ فاطمہ خواجہ اور اویس لغاری بھی موجود تھے۔ وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ اور محمد علی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اجلاس میں وزیراعظم نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ گلگت بلتستان کے جاری منصوبوں میں حائل تمام رکاوٹیں ترجیحی بنیادوں پر دور کی جائیں اور فنڈز بروقت جاری کیے جائیں تاکہ منصوبے جلد مکمل ہو سکیں۔ انہوں نے اداروں کے درمیان موثر رابطے اور نگرانی کو بھی منصوبوں کی جلد تکمیل کے لیے ضروری قرار دیا۔
100 میگاواٹ سولر منصوبہ اور نلتر منصوبہ
اجلاس میں خاص طور پر وفاقی حکومت کے 100 میگاواٹ سولر توانائی منصوبے کی جلد تکمیل کی ہدایت کی گئی۔ اس کے علاوہ جاری ہائیڈرو پاور، انفراسٹرکچر اور ڈیجیٹل منصوبوں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں نلتر پاور پراجیکٹ کی تکمیل بھی شامل ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ گلگت بلتستان کی ترقی، عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی اور معیار زندگی کی بہتری وفاقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اجلاس میں جولائی 2026 میں وزیراعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی کمیٹی کی رپورٹ بھی پیش کی گئی، جس میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، درپیش رکاوٹوں اور بروقت تکمیل کے اقدامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔
آج کے دورے سے کیا توقع ہے
وزیراعظم کا آج کا دورہ محض تقریبات تک محدود نہیں ہوگا بلکہ اس موقع پر خطے میں جاری ترقیاتی کاموں، توانائی کی فراہمی اور عوامی خدمات سے متعلق حکومتی وعدوں کا جائزہ بھی لیا جائے گا۔ گلگت بلتستان چین پاکستان اقتصادی راہداری کے راستے پر واقع ہونے کے باعث اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتا ہے، اس لیے وفاقی حکومت کی توجہ اس خطے پر خاص طور پر مرکوز ہے۔ اس سے قبل بھی وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے ترقیاتی منصوبوں کی تیز تکمیل کا حکم دیا تھا، جس کی تفصیل اس خبر میں پڑھی جا سکتی ہے: https://niazitvnews.com/?p=2924 جبکہ خطے کے سولر منصوبے کے جائزے سے متعلق خبر یہاں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=2574
پس منظر
گلگت بلتستان پاکستان کے شمالی علاقے میں واقع ہے اور چین کی سرحد سے متصل ہے۔ یہ خطہ سی پیک کے اہم راستے پر ہونے کی وجہ سے معاشی اور اسٹریٹجک لحاظ سے نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ خطے کے عوام کو بجلی، سڑکوں اور ڈیجیٹل سہولتوں سمیت بنیادی سہولتیں فراہم کرنا اس کی اولین ترجیح ہے۔
ماخذ: پاکستان ٹوڈے، دی ہندو، اے اے جے انگلش، ہم انگلش اور ریڈیو پاکستان کی 30 اور 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔