گوجرانوالہ دلہن قتل: مرکزی ملزم مبینہ مقابلے میں ہلاک
گوجرانوالہ میں ولیمے کے روز دلہن کے قتل کے مقدمے کے مرکزی ملزم سرفراز کے مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے مطابق ملزم کو اس کے اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک کیا گیا، تاہم اس واقعے کی تفصیلات کے بارے میں مختلف رپورٹس میں فرق بھی سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ ہفتہ 31 اکتوبر 2026 کو پیش آیا۔
سی سی ڈی کا دعویٰ
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سی سی ڈی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ سرفراز کراچی میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ چھپا ہوا تھا اور گرفتاری کے بعد اسے واپس لایا جا رہا تھا کہ قافلے پر حملہ ہوا، جس دوران وہ اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گیا۔ ترجمان کے مطابق ملزم اور اس کے ساتھی گرفتاری سے قبل مسلسل اپنی جگہیں بدلتے رہے تھے۔
دوسری جانب آج ٹی وی اور اردو پوائنٹ کی رپورٹس کے مطابق سی سی ڈی کی ٹیم مدو خلیل روڈ پر موجود تھی جب دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار مسلح افراد سے سامنا ہوا۔ ان رپورٹس کے مطابق ملزمان نے اہلکاروں کو دیکھ کر فائرنگ شروع کر دی، جوابی فائرنگ میں ایک ملزم شدید زخمی ہوا اور اسپتال منتقل کرتے ہوئے دم توڑ گیا، جبکہ اس کے تین ساتھی اندھیرے کا فائدہ اٹھا کر فرار ہو گئے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق زخمی ملزم کی شناخت سرفراز کے طور پر ہوئی اور اس کی موت بھی اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہوئی۔
فرار اور گرفتاریوں کا سلسلہ
سی سی ڈی کے مطابق سرفراز دلہن کے قتل کے بعد گوجرانوالہ سے کراچی فرار ہو گیا تھا اور بعد میں بلوچستان کے سرحدی علاقے میں چھپنے کی کوشش کی۔ سی سی ڈی کی خصوصی ٹیموں نے سندھ اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں اس کا تعاقب کیا۔ ایک علیحدہ کارروائی میں سی سی ڈی نے ملزم کے مبینہ ساتھی حمزہ کو گرفتار کر لیا ہے, جبکہ مقدمے میں نامزد خاتون ملزمہ عروب پہلے ہی پولیس کی حراست میں ہے۔
مقدمہ گوجرانوالہ سی سی ڈی میں مقتولہ کے والد کی شکایت پر درج کیا گیا تھا, جس میں تین ملزمان سرفراز, اس کی خاتون کزن اور ایک نامعلوم ساتھی کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعات 302, 311, 109 اور 34 کے تحت نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمے کی تفتیش جاری ہے اور فرار ہونے والے ساتھیوں کی تلاش بھی جاری ہے۔
24 اکتوبر کا واقعہ
یہ مقدمہ 24 اکتوبر 2026 کے اس واقعے سے متعلق ہے جب گوجرانوالہ میں نئی نویلی دلہن صبا طفیل کو ولیمے کی تقریب سے واپسی پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق صبا کی شادی 23 اکتوبر کو سفیان سے ہوئی تھی اور 24 اکتوبر کو شالیمار ٹاؤن میں ولیمے کی تقریب منعقد ہوئی تھی۔ واپسی پر سمن آباد چونگی کے قریب موٹر سائیکل پر سوار ملزمان نے ان کی گاڑی کو روکا اور فائرنگ کر دی, جس سے صبا شدید زخمی ہو گئیں اور اسپتال میں دم توڑ گئیں۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق سرفراز نے صبا کے اہل خانہ کو شادی کی پیشکش بھیجی تھی جو مسترد کر دی گئی تھی, اور اس کے بعد سے وہ رنجش رکھتا تھا۔ تاہم یہ الزامات تاحال عدالت میں ثابت نہیں ہوئے ہیں اور ملزم کی ہلاکت کے بعد مقدمے کے دیگر ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
جرائم کی دیگر خبروں کے لیے کراچی میں اسٹریٹ کرائم کی رپورٹ اور میانوالی میں لڑکی کے قتل کی رپورٹ بھی پڑھی جا سکتی ہیں۔
ذرائع: ڈان, آج ٹی وی, اردو پوائنٹ, 31 اکتوبر 2026۔