یورو بانڈ ٹوکنائزیشن کا منصوبہ، کابینہ منظوری درکار

0

پاکستان اپنے موجودہ یورو بانڈ قرض کو ٹوکنائز کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔ وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے 2 نومبر کو پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور لمز کے زیر اہتمام ڈیجیٹل اثاثوں اور بینکنگ کے مستقبل پر مکالمے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس امکان کا جائزہ لے رہی ہے، اور کابینہ کی منظوری کے بعد اس سلسلے میں تجاویز (آر ایف پی) طلب کی جائیں گی۔

ٹوکنائزیشن سے کیا مراد ہے؟

ٹوکنائزیشن کا مطلب ہے کہ کسی مالی اثاثے، اس معاملے میں حکومتی بانڈ، کو بلاک چین پر ڈیجیٹل ٹوکن کی صورت میں جاری یا منتقل کیا جائے۔ وزیر خزانہ کے مطابق اس کا مقصد ترسیلات زر کی لاگت کم کرنا، کاروباری ادائیگیاں تیز کرنا، کاروباری افراد تک مالی سہولتوں کی رسائی بہتر بنانا اور پیداواری سرمایہ کاری بڑھانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹوکنائزیشن سے ترسیلات زر کے راستے بہتر ہو سکتے ہیں، جن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے منسلک لین دین بھی شامل ہے۔

کابینہ کی منظوری اور اگلے مراحل

وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ ابھی زیر غور ہے اور حتمی نہیں ہوا۔ ان کے الفاظ میں، حکومت اس وقت بات چیت کے مرحلے میں ہے اور کابینہ کی منظوری کے بعد ہی تجاویز طلب کرنے کی طرف بڑھے گی۔ یعنی اگلے مراحل تین ہیں: پہلے کابینہ کی منظوری، پھر تجاویز کی طلبی، اور اس کے بعد ٹیکنالوجی پارٹنر یا کنسورشیم کا انتخاب۔ یہ بھی ابھی طے نہیں ہوا کہ کون سے مخصوص یورو بانڈ اس منصوبے میں شامل ہوں گے اور اس کا کوئی حتمی ٹائم ٹیبل سامنے نہیں آیا۔

ڈیجیٹل اثاثوں کا قانونی ڈھانچہ

پاکستان نے ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کے ذریعے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو قانونی بنیاد دی ہے، جس کے تحت پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی کو سروس فراہم کرنے والوں کی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک نے لائسنس یافتہ اداروں کو بینکاری سہولتیں فراہم کرنے کا مشروط طریقہ کار بھی متعارف کرایا ہے، جو مناسب جانچ اور صارفین کے فنڈز کی علیحدگی سے مشروط ہے۔ تاہم بینکوں پر اپنے یا صارفین کے فنڈز سے ورچوئل اثاثوں میں سرمایہ کاری، تجارت یا انہیں رکھنے کی پابندی برقرار رہے گی۔

ترسیلات زر کا بڑا پس منظر

وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کو 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلات زر موصول ہوئیں، جبکہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے رجحانات سے اندازہ ہے کہ یہ رقم 44 ارب ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے۔ اس تناظر میں ٹوکنائزیشن کو ترسیلات کے نظام کو سستا اور تیز بنانے کے ایک ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ستمبر 2026 میں حکومت نے دو حصوں میں 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ جاری کیے تھے، جن کی مدت ساڑھے پانچ اور دس سال تھی۔

یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان نے حال ہی میں علاقائی مالی تعاون میں اہم کردار سنبھالا ہے، جیسا کہ ایس سی او بینک کنسورشیم کی صدارت (https://niazitvnews.com/?p=3412) کی خبر میں بتایا گیا تھا، جبکہ توانائی کی قیمتوں میں کمی کا براہ راست اثر بھی معیشت پر پڑتا ہے، جیسا کہ پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں (https://niazitvnews.com/?p=3348) سے ظاہر ہوا۔

آگے کیا دیکھنا ہوگا؟

ماہرین کی نظر میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کابینہ کب منظوری دیتی ہے، کون سے بانڈ شامل کیے جاتے ہیں، اور ٹیکنالوجی پارٹنر کون ہوگا۔ جب تک یہ تین باتیں واضح نہیں ہوتیں، یورو بانڈ ٹوکنائزیشن ایک تجویز ہی رہے گی، لیکن حکومت کے اس اعلان سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی طرف سنجیدگی سے بڑھ رہا ہے۔

ذرائع: دی ایکسپریس ٹریبیون، پرافٹ (پاکستان ٹوڈے)، میٹس گلوبل، ٹیک ایکس — 2 تا 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *