یکم نومبر سے موبائل پر کالر کا نام نظر آنے کی وائرل خبر — اصل سچ کیا ہے؟ (فیکٹ چیک)
سوشل میڈیا پر ان دنوں ایک خبر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے: “یکم نومبر سے موبائل پر ہر آنے والی کال کے ساتھ کال کرنے والے کا نام بھی نظر آئے گا۔” کیا یہ خبر پاکستان کے لیے بھی ہے؟ جواب ہے: نہیں۔ یہ حکم دراصل انڈیا کا ہے اور پاکستان کے صارفین کو اسے اپنے ملک کا قانون سمجھنے کی غلط فہمی ہوئی ہے۔
انڈیا میں کیا حکم آیا ہے؟
بھارت کے محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈاٹ) نے 13 اکتوبر 2026 کو ایک سرکلر جاری کیا جس کے تحت “کالنگ نیم پریزنٹیشن” (سی این اے پی) سروس یکم نومبر سے انڈین 4G اور 5G نیٹ ورکس پر لازمی ہوگی۔ اس سروس کے تحت نامعلوم نمبر سے کال آنے پر موبائل اسکرین پر کال کرنے والے کا رجسٹرڈ نام بھی دکھائی دے گا۔ مقصد سپیم اور فراڈ کالوں پر قابو پانا ہے۔
سرکلر کے مطابق کاروباری اور بلک کنکشنز کے حامل صارفین اپنا “ترجیحی نام” دکھا سکیں گے بشرطیکہ وہ رجسٹرڈ ٹریڈ مارک یا جی ایس ٹی پورٹل پر رجسٹرڈ تجارتی نام ہو۔ رازداری کے تحفظ کے لیے کہا گیا ہے کہ کال ختم ہونے کے بعد کالر کا نام محفوظ نہیں رکھا جائے گا، اور جن صارفین نے کالنگ لائن آئیڈینٹیفکیشن ریسٹرکشن (سی ایل آئی آر) فعال کی ہوئی ہے ان کا نام ظاہر نہیں ہوگا۔
پاکستان میں سچائی کیا ہے؟
ڈیلی پاکستان انگلش کے فیکٹ چیک (17 اکتوبر 2026) کے مطابق پاکستان میں اس طرح کا کوئی حکم موجود نہیں۔ بھارت کا محکمہ ٹیلی کمیونیکیشن (ڈاٹ) ایک انڈین سرکاری ادارہ ہے، جبکہ پاکستان کا ٹیلی کام ریگولیٹر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) ہے۔ انڈیا کے ڈاٹ کا جاری کردہ حکم خودکار طور پر پاکستانی موبائل نیٹ ورکس پر لاگو نہیں ہوتا۔
17 اکتوبر 2026 تک کی معلومات کے مطابق پی ٹی اے نے ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جس کے تحت پاکستانی موبائل آپریٹرز یکم نومبر سے کال کرنے والوں کے رجسٹرڈ نام دکھانے کے پابند ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ جاز، زونگ، یوفون، ٹیلی نار یا دیگر آپریٹرز محض انڈین اعلان کی وجہ سے نامعلوم کالرز کے نام دکھانا شروع نہیں کریں گے۔ پاکستان میں ایسی کوئی تبدیلی صرف پی ٹی اے کے باضابطہ اعلان سے ہی ہو سکتی ہے۔
صارفین کیا احتیاط کریں؟
سوشل میڈیا پر اردو میں گردش کرنے والی بعض پوسٹس میں “یکم نومبر سے موبائل پر کالر کا نام نظر آئے گا” جیسی سرخیاں اس واضح ذکر کے بغیر لگائی جا رہی ہیں کہ یہ اعلان انڈیا کا ہے — جس سے قارئین کو لگتا ہے کہ یہ تبدیلی پاکستان میں بھی ہونے جا رہی ہے۔ ایسی وائرل پوسٹس کو شیئر کرنے سے پہلے ہمیشہ اصل ذریعے کی تصدیق کریں۔
ذرائع: ڈیلی پاکستان انگلش، اسلام آباد انسائیڈر، فنانشل ایکسپریس، ڈیکن کرانیکل