ایران امریکا مسودہ: یورینیم منتقلی، ہرمز 7 دن میں کھلے گا

0

امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے ایک ابتدائی مسودے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کسی متفقہ تیسرے ملک منتقل کرنے یا اس کی افزودگی کی سطح کم کرنے کی تجویز شامل ہے، جبکہ ابتدائی مفاہمت کے سات دن کے اندر آبنائے ہرمز کو عالمی بحری ٹریفک کے لیے دوبارہ کھولنے کا بھی منصوبہ ہے۔ یہ تفصیلات العربیہ انگلش کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹ میں سامنے آئی ہیں، جس نے مسودے کے اہم نکات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ ابھی کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ مذاکرات کا ایک ابتدائی خاکہ ہے جس پر دونوں حکومتوں کی باضابطہ منظوری سامنے نہیں آئی ہے۔

مسودے کے اہم نکات کیا ہیں

رپورٹ کے مطابق مسودے میں ایران کے جوہری وعدوں اور آبنائے ہرمز کی بحری سلامتی کو امریکا کی جانب سے پابندیوں، بحری ناکہ بندی اور دیگر معاشی پابندیوں میں واضح نرمی سے جوڑا گیا ہے۔ یعنی ایران کے اقدامات کے بدلے میں امریکا بھی مخصوص معاشی رعایتیں دے گا، اور ہر مرحلے پر عمل درآمد سے پہلے ایک آزاد تصدیقی نظام یہ جانچے گا کہ دونوں فریق اپنے وعدے پورے کر رہے ہیں یا نہیں۔

مسودے میں براہ راست امریکا ایران مذاکرات دوحہ میں کرانے کی تجویز بھی شامل ہے، نہ کہ استنبول میں۔ اس کے علاوہ چین کو معاہدے پر عمل درآمد اور اس کے قیام کی ممکنہ ضامن کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ تاخیر یا خلاف ورزی کی صورت میں ثالثوں اور ضامن ممالک پر مشتمل تنازعات کے حل کا طریقہ کار بھی تجویز کیا گیا ہے، تاکہ فوجی کشیدگی دوبارہ نہ بھڑکے۔

قطر کی ثالثی اور وینس کا خط

اس مسودے کی خبر ایسے وقت میں آئی ہے جب قطر کے ثالث ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قطری ٹیم تہران پہنچی ہے۔ اس سے پہلے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا ایرانی سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی کو لکھا گیا خط بھی قطری ایلچیوں کے ذریعے تہران پہنچا تھا، جسے تہران میں امریکی فوجی حملوں سے بچنے کے لیے ایک نئے سفارتی راستے کے طور پر خوش آئند قرار دیا گیا تھا۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خط کے بارے میں مختلف وضاحت دی تھی، جس سے اس معاملے پر ابہام بھی پیدا ہوا۔ اس پس منظر میں نیا مسودہ اہم ہے، کیونکہ اس میں دونوں فریقوں کے مطالبات کو ایک ترتیب میں جوڑنے کی کوشش کی گئی ہے: واشنگٹن شروع سے ہی جوہری رعایتیں چاہتا ہے، جبکہ تہران پہلے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور تیل کی برآمدات پر پابندیاں نرم کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے

آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل کی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ دنیا کے تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس کی بندش یا اس پر حملوں کی خبروں سے عالمی تیل کی قیمتوں پر فوری اثر پڑتا ہے، اور پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے مسودے میں سات دن کے اندر اسے کھولنے کی شق کو ابتدائی اعتماد سازی کا اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ مسودہ ابھی ابتدائی ہے اور اس کی شرائط کو کسی حتمی معاہدے یا ایران کی تصدیق شدہ رضامندی کے طور پر نہیں پڑھنا چاہیے۔ دونوں حکومتوں کی جانب سے اس مسودے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، اور مذاکرات کے اگلے مراحل میں اس کی شرائط تبدیل بھی ہو سکتی ہیں۔

مزید تفصیل کے لیے ہماری پہلی خبریں ایران امن منصوبہ: سات دن کا خاکہ (https://niazitvnews.com/?p=2742) اور وینس کا ایران کو خط، ٹرمپ کی تردید (https://niazitvnews.com/?p=2773) بھی پڑھیں۔

ماخذ: العربیہ انگلش کی رپورٹ کے حوالے سے نیو انڈین ایکسپریس، ٹائمز ناؤ، انڈیا ٹی وی اور اے بی پی لائیو کی 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *