ایران: حملے پر بلا جغرافیائی حد جواب کی دھمکی

0

ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ امریکا یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی نئے حملے کا فوری، مؤثر اور بلا جغرافیائی حد جواب دیا جائے۔ یہ حکم ہفتے 31 اکتوبر کو فوج کے اعلیٰ کمانڈروں سے ملاقات میں دیا گیا، جسے ایرانی میڈیا اور عالمی خبر رساں اداروں نے سپریم لیڈر کا اپنے عہدے پر آنے کے بعد کمانڈروں سے پہلا باضابطہ اجلاس قرار دیا ہے۔

خامنہ ای نے کمانڈروں کو کیا حکم دیا

سپریم لیڈر کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق، ملاقات میں مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف علی عبداللہی، بری فوج کے سربراہ امیر حاتمی اور پاسداران انقلاب کے کمانڈر احمد وحیدی شریک تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ “ہر سطح اور ہر قسم کے خطرے کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے، بغیر کسی جغرافیائی حد کے”۔ کمانڈروں کو یہ بھی ہدایت دی گئی کہ وہ امریکا اور اسرائیل کے “مادی اور غیر مادی” اثاثوں کی فہرست کو اپ ڈیٹ کریں تاکہ وہ سب ایرانی مسلح افواج کی پہنچ میں آ جائیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ “اگر دشمن ایک بار پھر فوجی یا دہشت گردانہ حملے کرے تو اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج اور ایرانی قوم ہی اس کے خاتمے کا وقت اور شرائط طے کریں گے”۔ سپریم لیڈر نے “ذہین جنگی تیاری” اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے صلاحیتوں میں اضافے کو “زیادہ سے زیادہ روک تھام” کی شرط قرار دیا۔ مسلح افواج کے چیف علی عبداللہی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایران کی افواج نے امریکا اور اسرائیل کے اہداف کی نئی فہرست تیار کر لی ہے اور کسی بھی نئے حملے پر “ناقابل تصور جواب” دیا جائے گا۔

سفارت کاری کے متوازی راستے پر کیا ہو رہا ہے

یہ سخت بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ ایران کے سیکیورٹی عہدیدار محسن رضائی نے کہا ہے کہ انہیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط موصول ہوا ہے اور واشنگٹن کے لہجے میں “مکمل تبدیلی” آئی ہے، تاہم انہوں نے ابھی اس کا جواب نہیں دیا۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری ثالثوں سے بات چیت کے بعد کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایران کے سات روزہ منصوبے کی مدت کو دو دن تک کم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، بشرطیکہ واشنگٹن تہران کی شرائط پوری کرے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران پر دوبارہ حملوں کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔ تاہم وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے خلیجی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملوں کے لیے تیار رہیں۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کی جوہری صلاحیت بڑی حد تک تباہ ہو چکی ہے اور باقی جوہری مقامات کو منٹوں میں نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

پس منظر اور سخت گیر مطالبہ

ایران اور امریکا اسرائیل کے درمیان جنگ کا آغاز فروری میں ہوا تھا، جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے تھے۔ رپورٹوں کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کے والد، سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، اس جنگ کے آغاز میں مارے گئے تھے، اور اس کے بعد سے مجتبیٰ خامنہ ای عوام میں نظر نہیں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ کمانڈروں سے ان کی ملاقات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔
اسی دوران ایرانی پارلیمنٹ کے ایک سخت گیر رکن محمود نبیان نے سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا ہے کہ تہران ایٹم بم بنائے۔ یہ مطالبہ ان کا ذاتی موقف ہے اور تہران کی جوہری ہتھیاروں کی مخالفت کی دیرینہ سرکاری پالیسی سے مختلف ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کا بیان اور نبیان کا مطالبہ مل کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ تہران کسی بھی محدود حملے کو محدود نہیں رہنے دینا چاہتا۔
ذرائع: بزنس ٹائمز، ای ٹی ناؤ، نیویارک پوسٹ، ٹائمز آف اسرائیل، نیوز ان پلگ اور دی رائسینا ہلز — یکم نومبر 2026۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مسودہ: یورینیم باہر، ہرمز 7 دن میں کھلے گا https://niazitvnews.com/?p=2993 اور ایران امریکا کشیدگی سے متعلق پہلی رپورٹ https://niazitvnews.com/?p=2937 ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *