ایران نے وینس کا خط ملنے کی تصدیق کر دی، جواب ابھی نہیں
ایران نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو تصدیق کی ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا خط تہران کو موصول ہو گیا ہے، لیکن ایران نے ابھی اس کا جواب نہیں دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق “ایران کو خط موصول ہو گیا ہے لیکن ابھی جواب نہیں دیا گیا”، جب کہ فارس نیوز ایجنسی نے بھی ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے یہی خبر دی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ جاری ہے اور واشنگٹن نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے بعد نئے حملوں کا عندیہ دے چکا ہے۔
خط میں کیا ہے — وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ
وال اسٹریٹ جرنل نے بدھ کی شام رپورٹ کیا تھا کہ نائب صدر وینس نے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کو خط لکھا ہے، جو اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے سابق کمانڈر بھی ہیں۔ اخبار کے مطابق خط صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا اور صدر اس اقدام سے پوری طرح آگاہ تھے۔ خط کا مقصد یہ جانچنا بتایا گیا ہے کہ آیا واشنگٹن اور تہران مذاکرات کے کسی فریم ورک پر متفق ہو سکتے ہیں، تاکہ ٹرمپ کو آئندہ ہفتوں میں ایران پر نیا حملہ کرنے سے روکا جا سکے۔
رپورٹ کے مطابق خط اور اس کے بعد امریکی و ایرانی حکام کے درمیان رابطوں میں کسی امن معاہدے کی تفصیلات پر بات نہیں ہوئی، بلکہ صرف مذاکرات کے ممکنہ فریم ورک پر توجہ دی گئی۔ ایک ذریعے کے مطابق وینس یہ معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ کیا سخت گیر ایرانی قیادت سے بات چیت بہتر نتائج دے سکتی ہے، کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے تہران میں سخت گیر عناصر کا اثر بڑھا ہے۔
ٹرمپ کا موقف — طبی سامان کی وضاحت
صدر ٹرمپ نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو میں اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے وینس کو امن مذاکرات شروع کرنے کی ہدایت دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ وینس کا رابطہ طبی سامان سے متعلق تھا۔ ٹرمپ نے جوائنٹ بیس اینڈریوز میں صحافیوں سے کہا: “ایران کو طبی سامان کی مدد چاہیے۔ بنیادی طور پر یہ بیمار لوگوں کی مدد کے لیے سامان پہنچانے کی بات ہے۔”
دوسری جانب خبر رساں ادارے ایکسیوس نے رپورٹ کیا ہے کہ وینس کے خط میں کسی بھی مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے کو اٹھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ یوں وائٹ ہاؤس کے بیان اور اخبار کی رپورٹ میں واضح فرق نظر آتا ہے، اور یہ تضاد ابھی حل نہیں ہوا ہے۔
ایران کی سات شرائط برقرار
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران ثالثوں، خاص طور پر قطر اور پاکستان، کے ساتھ جنگ ختم کرنے اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے منصوبے پر بات کر رہا ہے۔ تاہم تہران کا اصرار ہے کہ واشنگٹن اس کی سات شرائط پوری کرے، جن میں پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی، بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی واپسی، ایران کے تیل کے شعبے پر پابندیوں کا خاتمہ اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہے۔
تسنیم کی رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ “ایران کے قائم کردہ اس مضبوط فریم ورک سے متصادم کوئی بھی موقف ناقابل قبول ہے۔” ایران کے اقوام متحدہ میں مشن نے اس خط پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا، اور وینس کے دفتر نے بھی فوری ردعمل نہیں دیا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے فروری میں شروع ہونے والی جنگ میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور سینئر فوجی کمانڈر مارے گئے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی اثاثوں پر حملے کیے تھے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی آمدورفت پر پابندیاں لگا دی تھیں۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کی وینس رابطے سے متعلق تردید یہاں: https://niazitvnews.com/?p=2551
ایران قطر امن تجاویز کی تفصیل یہاں: https://niazitvnews.com/?p=2553
ذرائع: اے ایف پی (بذریعہ خلیج ٹائمز)، جیروزلم پوسٹ، وال اسٹریٹ جرنل (بذریعہ ہارٹز)، گلف نیوز — 29 اکتوبر 2026۔