سہیل آفریدی سمیت 5 رہنماؤں کے وارنٹ جاری

0

پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سمیت پانچ پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جائے، جب کہ کیس کی اگلی سماعت 4 نومبر کو ہوگی۔

کن رہنماؤں کے وارنٹ جاری ہوئے

وارنٹ سہیل آفریدی کے علاوہ سابق صوبائی وزرا تیمور سلیم جھگڑا اور کامران بنگش، پی ٹی آئی پشاور کے ضلعی صدر عرفان سلیم اور پارٹی کارکن عامر خان چمکنی کے خلاف جاری کیے گئے ہیں۔ یہ پانچوں رہنما پہلے اس مقدمے کی ایف آئی آر یا چالان میں نامزد نہیں تھے، بلکہ انہیں ضمنی چالان کے ذریعے ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ عدالت کے جج ولی محمد خان نے بدھ کو سماعت کے دوران وارنٹ جاری کرنے کا حکم دیا، کیونکہ پانچوں نئے نامزد ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہوئے ہیں۔

فارنزک رپورٹس کی بنیاد پر نامزدگی

پراسیکیوشن کے مطابق ان رہنماؤں کو پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی رپورٹس کی روشنی میں نامزد کیا گیا ہے۔ تفتیشی افسر ڈی ایس پی خوشحال خان کی رپورٹ کے مطابق ریڈیو پاکستان پشاور کے اسٹیشن ڈائریکٹر طفیل احمد نے فارنزک نتائج کی بنیاد پر ضمنی بیان ریکارڈ کرایا، جس میں پانچوں افراد کو ملزم نامزد کیا گیا۔ پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پانچوں افراد کے چہرے کی خصوصیات ویڈیو فوٹیج میں ہنگامہ آرائی میں مبینہ طور پر شریک نظر آنے والے افراد سے ملتی ہیں، جب کہ نادرا کی رپورٹ میں ان کے شناختی کارڈ نمبرز کی ممکنہ مطابقت کا ذکر کیا گیا ہے۔

فارنزک معائنے کا حکم 12 دسمبر 2025 کو ریڈیو پاکستان کے وکیل شبیر حسین گیگیانی کی درخواست پر دیا گیا تھا۔ سماعت میں پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن کی جانب سے گیگیانی، ریاست کی جانب سے سینئر پبلک پراسیکیوٹر منظور عالم خان اور ملزمان کی جانب سے وکیل علی زمان پیش ہوئے۔

پی ٹی آئی کا موقف اور کیس کا پس منظر

پی ٹی آئی رہنماؤں نے ویڈیو فوٹیج کی صداقت پر سوال اٹھایا ہے اور ان کا موقف ہے کہ یہ کلپس 10 مئی 2023 کے واقعے سے متعلق نہیں ہیں۔ یہ مقدمہ 9 اور 10 مئی 2023 کو اس وقت کے وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پھوٹنے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران پشاور میں ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے اور آتش زنی سے متعلق ہے۔ اس کیس میں پہلے ہی 80 سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔

دوسری جانب سہیل آفریدی کی مبینہ غیر قانونی حراست یا جبری گمشدگی کے خلاف دائر درخواست پشاور ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد آفریدی غیر فعال ہو چکے ہیں، اور صوبے کی سیاسی صورتحال پر اس عدالتی پیش رفت کے اثرات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے حوالے سے فضل الرحمان کے حالیہ بیان کے لیے یہ لنک شامل کریں: https://niazitvnews.com/?p=2497 اور پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی سے متعلق گوہر کی وضاحت کے لیے یہ لنک: https://niazitvnews.com/?p=2461

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *