شمالی کوریا نے بائنانس ہیک کی تردید کر دی، ایف بی آئی پر تنقید

0

شمالی کوریا نے منگل 3 نومبر کو دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائنانس سے 6 ارب ڈالر سے زائد کی چوری میں ملوث ہونے کے امریکی الزام کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی بااثر بہن کم یو جونگ نے امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے اعلان کو “بے معنی اشتعال انگیزی” اور “مضحکہ خیز بیان بازی” قرار دیا۔

ایف بی آئی کا الزام کیا ہے؟

بائنانس نے جمعہ کو انکشاف کیا تھا کہ ہیکرز نے 6 ارب ڈالر سے زائد کی کرپٹو کرنسی چوری کی ہے، جو ریکارڈ کی سب سے بڑی کرپٹو چوری سمجھی جا رہی ہے۔ بعد میں ایف بی آئی نے کہا کہ یہ چوری شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر نے کی، جو لازارس گروپ سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ ایف بی آئی کے مطابق یہی گروپ گزشتہ سال فروری 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی چوری میں بھی ملوث تھا، جو اس وقت کا سب سے بڑا سائبر ڈاکہ تھا۔ ایف بی آئی نے کرپٹو کاروباروں سے کہا ہے کہ وہ اس گروپ سے منسلک والٹس کے لین دین کو روکیں۔

شمالی کوریا کا جواب

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے کے ذریعے جاری بیان میں کم یو جونگ نے کہا کہ امریکہ کا دعویٰ “مضحکہ خیز بیان بازی ہے اور اس میں کچھ نیا نہیں”، اور اسے شمالی کوریا کے خلاف “سنگین سیاسی اشتعال انگیزی” قرار دیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن دنیا بھر میں ہونے والے سائبر جرائم کو شمالی کوریا سے جوڑ کر عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کا مقصد پیانگ یانگ کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچانا ہے۔

چوری شدہ رقم کا کیا ہوا؟

بلاک چین تجزیاتی ادارے ایلپٹک کی رپورٹ کے مطابق چوری شدہ رقم تقریباً 6.43 ارب ڈالر تھی، جس میں سے تقریباً 44 فیصد، یعنی 2.85 ارب ڈالر، منجمد یا ضبط کر لی گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہیکرز نے تقریباً 12,000 والٹس استعمال کیے اور چار دن میں 40,000 سے زائد لین دین کیے۔ بائنانس نے کہا ہے کہ اس نے متاثرہ رقم کا تقریباً 95 فیصد پورا کر دیا ہے، جبکہ ایکسچینج دوبارہ کھلنے کے بعد صارفین نے 3.6 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے نکال لیے۔

میزائل تجربہ بھی ساتھ

شمالی کوریا کی تردید سے ایک روز قبل اس نے کروز میزائلوں کا تجربہ بھی کیا، جس کی اطلاع سرکاری میڈیا نے دی۔ اس سے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے، کیونکہ امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان سائبر حملوں اور میزائل پروگرام پر دیرینہ تنازع چلا آ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بائنانس ہیک اور اس پر الزام تراشی کا یہ سلسلہ عالمی کرپٹو مارکیٹ کے تحفظ اور ریگولیشن پر بھی نئی بحث چھیڑ دے گا۔

ڈیجیٹل اثاثوں کا معاملہ پاکستان میں بھی زیر بحث ہے، جہاں حکومت یورو بانڈ ٹوکنائزیشن (https://niazitvnews.com/?p=3442) پر غور کر رہی ہے، جبکہ ذاتی ڈیٹا کے تحفظ کا عالمی مسئلہ جنوبی کوریا کے صدر کے ڈیٹا لیک (https://niazitvnews.com/?p=3439) کے واقعے میں بھی سامنے آیا تھا۔

آگے کیا ہوگا؟

ایف بی آئی کی جانب سے والٹس کو بلاک کرنے کی اپیل کے بعد کرپٹو ایکسچینجز اور تجزیاتی ادارے چوری شدہ فنڈز کی نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شمالی کوریا کی تردید کے باوجود امریکی حکام اپنے الزام پر قائم ہیں، اور یہ تنازع عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی اور کرپٹو ریگولیشن کی بحث کو مزید تیز کر سکتا ہے۔

ذرائع: بزنس اسٹینڈرڈ، بی بی سی، رائٹرز، ایلپٹک رپورٹ — 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *