لاہور ہائیکورٹ: شیریں مزاری کے وارنٹ گرفتاری معطل برقرار

0

لاہور ہائیکورٹ کے ملتان بینچ نے سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کے خلاف اینٹی کرپشن کیس میں جاری وارنٹ گرفتاری کی معطلی برقرار رکھی ہے۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 3 نومبر تک ملتوی کر دی۔

عدالت میں کیا ہوا

جسٹس طارق سلیم شیخ نے کیس کی سماعت کی۔ شیریں مزاری کے وکیل سید مزمل حسن بخاری نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے پہلے ہی ان کی موکلہ کو الزامات سے کلیئر کر دیا تھا۔

وکیل کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں کو شیریں مزاری کے قبضے سے کوئی زمینی ریکارڈ یا سرکاری دستاویزات نہیں ملیں، اور سرکاری ریکارڈ میں مبینہ چھیڑ چھاڑ کا الزام بے بنیاد ہے۔ ان کے مطابق کیس ایک اہلکار کے ضمنی بیان پر مبنی ہے جو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیا گیا تھا۔

گرفتاری کا پس منظر

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شیریں مزاری کو 21 مئی 2022 کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں انہیں اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر رہا کیا گیا تھا۔

دلائل سننے کے بعد جج نے وارنٹ گرفتاری کی معطلی برقرار رکھنے کا حکم دیا۔

کیوں اہم ہے

شیریں مزاری پاکستان تحریک انصاف کی سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق رہ چکی ہیں۔ ان کے خلاف اینٹی کرپشن کیس سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز رہا ہے، اور وارنٹ گرفتاری کی معطلی برقرار رہنا ان کے لیے وقتی ریلیف ہے۔

واضح رہے کہ یہ معطلی حتمی فیصلہ نہیں ہے — عدالت نے سماعت 3 نومبر تک ملتوی کی ہے، جس کے بعد کیس کی مزید کارروائی ہوگی۔

متعلقہ خبر: سول جج پر شیشے سے حملہ — وکیل اسلم نیازی سمیت 7 پر مقدمہ

متعلقہ خبر: عمران خان کی بہنوں کا کیس — ہوم سیکریٹری 28 اکتوبر کو طلب

ذرائع: اب تک نیوز — رپورٹ 23 اکتوبر 2026 کی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *