پنجاب یونیورسٹی کا کتاب میلہ ریکارڈ — تین روز میں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد کتابیں فروخت
لاہور: یونیورسٹی آف دی پنجاب کے تین روزہ کتاب میلے میں رواں سال نیا ریکارڈ قائم ہو گیا۔ دی نیشن کی رپورٹ کے مطابق وائس چانسلر کی جانب سے جاری کردہ حتمی اعداد و شمار کے مطابق میلے کے تینوں دنوں میں 2 لاکھ 30 ہزار سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں، جو اس میلے کی تاریخ میں سب سے زیادہ فروخت ہے۔
یہ کتاب میلہ 15 سے 17 اکتوبر تک پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس لاہور میں منعقد ہوا، جسے پاکستان کا سب سے بڑا کتاب میلہ قرار دیا جاتا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق پہلے دن 45 ہزار، دوسرے دن 65 ہزار اور تیسرے دن 90 ہزار سے زائد کتابیں فروخت ہوئیں — یوں مجموعی فروخت 2 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
وائس چانسلر کا خطاب
میلے کے اختتام پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ کتابوں کی یہ ریکارڈ فروخت عوام کی مطالعے میں گہری دلچسپی کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں بھی سستی اور معیاری کتابیں مطالعے کی عادت کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے دیگر جامعات سے بھی اس طرح کی سرگرمیاں منعقد کرنے کی اپیل کی۔
ادبی میلہ بھی ساتھ ساتھ
کتاب میلے کے ساتھ ایک ادبی فیسٹیول بھی منعقد ہوا، جس میں نامور پاکستانی ادیبوں کی کتابوں کی رونمائی اور مشاعرہ شامل تھا۔ ٹریبیون کے مطابق سابق آئی جی ذوالفقار احمد چیمہ کی کتاب کی رونمائی کی تقریب بھی اسی میلے کا حصہ تھی۔ میلے میں طلبہ، اساتذہ، خاندانوں کے ساتھ سیاستدانوں، سول سرونٹس، وکلا، شعرا اور ادیبوں نے بھی شرکت کی۔
(ذرائع: دی نیشن، ایکسپریس ٹریبیون)