اسرائیل: نیتن یاہو ہٹانے کی کوشش، گولان کی عباس سے ملاقات

0

اسرائیل میں 27 اکتوبر کے کنیسٹ انتخابات کے بعد حکومت سازی کا تعطل برقرار ہے، اور اپوزیشن کے رہنما یائر گولان نے جمعرات 29 اکتوبر 2026 کو عرب جماعت رعم کے سربراہ منصور عباس سے ملاقات کر کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے خاتمے کے لیے “تبدیلی کی حکومت” بنانے کی کوشش تیز کر دی ہے۔ گولان نے ملاقات کے بعد کہا کہ اب عمل کا وقت ہے اور تبدیلی کا موقع ضائع نہیں ہونا چاہیے.

گولان اور عباس کی ملاقات میں کیا طے ہوا

اسرائیلی میڈیا کے مطابق ڈیموکریٹس پارٹی کے چیئرمین یائر گولان نے منصور عباس سے ملاقات میں حکومت سازی کے دستیاب راستوں پر بات کی۔ عباس نے بعد میں کہا کہ دونوں نے “مرمت اور نجات کی حکومت” بنانے کے لیے شراکت داری کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ گولان اس سے پہلے بھی رعم کو آئندہ حکومت کا حصہ بنانے کی کھلی حمایت کر چکے ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو خود بھی ماضی میں عباس سے مذاکرات کے لیے تیار تھے۔

گولان نے اسی روز یشعر پارٹی کے رہنما گاڈی ایزن کوٹ اور اپوزیشن لیڈر یائر لپڈ سے بھی ملاقاتیں کیں، جو حکومت سازی کے لیے اپوزیشن کے درمیان رابطوں کا حصہ ہیں۔ گولان نے واضح کیا کہ وہ نیتن یاہو کے ساتھ اتحاد کی حکومت بنانے کے مخالف ہیں اور ان کے بقول ماضی میں اس طرح کی کوششیں ناکام رہی ہیں۔

اعداد کا کھیل: 53 بمقابلہ 67

کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے نیتن یاہو کے بلاک کو 53 نشستیں ملی ہیں، جب کہ اپوزیشن بلاک کو 48 اور عرب جماعتوں کو 19 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس طرح نیتن یاہو کے مخالف مجموعی طور پر 67 نشستوں تک پہنچتے ہیں، لیکن یہ 67 نشستیں کسی متفقہ اتحاد کی نمائندگی نہیں کرتیں۔ حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی اکثریت درکار ہے، اور ایزن کوٹ کا بلاک عرب جماعتوں کی حمایت کے بغیر 48 نشستوں پر رکا ہوا ہے۔

مسئلہ یہ ہے کہ اپوزیشن بلاک کی چار جماعتوں میں سے تین نے انتخابی مہم میں عرب جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے کا وعدہ کیا تھا۔ صرف گولان نے کھلے عام ایسی شراکت کی حمایت کی ہے۔ یسرائیل بیتینو کے رہنما ایوگڈور لیبرمین نے جمعرات کو پھر دہرایا کہ وہ نہ نیتن یاہو کے ساتھ بیٹھیں گے اور نہ عرب جماعتوں پر انحصار کرنے والی حکومت کا حصہ بنیں گے۔ ان کے بقول “نہ بی بی، نہ طیبی” کا موقف پہلے سے زیادہ درست ہے۔

عباس کا شک اور مظاہرین کا دباؤ

دلچسپ بات یہ ہے کہ منصور عباس نے خود اس امکان پر شک ظاہر کیا ہے کہ ایزن کوٹ کی قیادت میں عرب جماعتوں کی بیرونی حمایت سے اقلیتی حکومت بن سکے۔ اسرائیلی چینل 12 کے مطابق عباس نے اپنی جماعت کے ارکان سے ملاقات میں کہا کہ اس طرح کی حکومت کے امکانات کم یا ناممکن ہیں۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ ملاقاتوں کے باوجود حکومت سازی کا راستہ ابھی واضح نہیں ہے۔

دوسری جانب عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ جمعرات کی شام تقریباً 200 افراد نے ہرتسلیا میں ایزن کوٹ کے گھر کے باہر مظاہرہ کیا اور ان سے عرب جماعتوں کی حمایت سے حکومت بنانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے “عوام نے فیصلہ کر دیا — یہودی عرب شراکت” اور “یہودی اور عرب دشمن بننے سے انکار کرتے ہیں” کے نعرے لگائے۔ اسی طرح کے مظاہرے یروشلم اور حیفا میں بھی ہوئے، اور مظاہرین نے ہفتے کی رات تل ابیب میں بڑی ریلی کا اعلان کیا ہے۔

نیتن یاہو کا موقف اور آگے کیا ہوگا

نیتن یاہو نے انتخابی نتائج پر دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں اور عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون کو مسترد کیا ہے، جب کہ الیکشن کمیشن نے داخلی سلامتی ایجنسی سے معاملے کی تحقیقات کے لیے کہا ہے۔ حتمی مصدقہ نتائج 4 نومبر تک متوقع ہیں، جب ڈبل لفافے والے ووٹوں کی گنتی مکمل ہوگی۔ اس وقت تک نیتن یاہو نگراں وزیراعظم کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

حکومت سازی کا عمل اس بات پر منحصر ہوگا کہ آیا اپوزیشن بلاک عرب جماعتوں کے ساتھ تعاون پر متفق ہو پاتا ہے یا نیتن یاہو کسی اور اتحاد کی کوشش کرتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اسرائیل میں سیاسی غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کا امکان ہے۔

مزید پڑھیں: اسرائیل انتخابات: نیتن یاہو بلاک 53 نشستوں پر، اکثریت نہ ملی — https://niazitvnews.com/?p=2672 اور اسرائیل میں شن بیٹ غیر ملکی فنڈنگ تحقیقات — https://niazitvnews.com/?p=2636۔

ماخذ: ٹائمز آف اسرائیل، ہآرتض، اناطولیہ ایجنسی اور ٹائمز ناؤ کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *