شہباز شریف کا گوجرانوالہ میں گورنر راج کا دفاع — “کے پی کو جلتا چھوڑنا مجرمانہ غفلت ہوتی”، نواز شریف کی بھی حمایت

0
گوجرانوالہ میں جلسے سے خطاب — وزیراعظم کا گورنر راج کا دفاع

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز گوجرانوالہ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا بھرپور دفاع کیا اور کہا کہ حکومت کے پاس “کوئی دوسرا راستہ” نہیں تھا، کیونکہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے دوران خونریزی کا خدشہ تھا اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال بگڑ چکی تھی۔

“مجرمانہ غفلت ہوتی”

گوجرانوالہ میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم نے کہا کہ حکومت خاموش تماشائی بن کر خونریزی نہیں دیکھ سکتی تھی۔ انہوں نے روم جلنے اور نیرو کے بانسری بجانے کی مشہور کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو بگڑنے دینا اور آئندہ نسلوں کے سامنے جوابدہ ہونا ان کے لیے ممکن نہ تھا — ان کے بقول ایسا کرنا “مجرمانہ غفلت” کے مترادف ہوتا۔

نواز شریف کی حمایت

مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے بھی لندن میں صحافیوں سے گفتگو میں کے پی میں ایمرجنسی کے اقدام کی حمایت کی۔ ان کے بقول یہ قدم بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا کیونکہ صوبے کی امن و امان کی صورتحال قابو سے باہر ہو رہی تھی۔ انہوں نے سوال اٹھایا: “کون سا ملک اجازت دیتا ہے کہ کوئی وزیراعلیٰ سرکاری وسائل استعمال کر کے وفاقی دارالحکومت پر حملہ کرے؟”

48 گھنٹے کی مذاکراتی کوششیں

وزیراعظم کے مطابق حکومت نے لانگ مارچ روکنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی تھی اور متعلقہ فریقوں سے تقریباً 48 گھنٹے تک مذاکرات ہوئے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایک جامع معاہدہ تیار ہو گیا تھا جس کے تحت پی ٹی آئی لانگ مارچ کی کال واپس لیتی جبکہ پاکستان معاشی بحالی کی راہ پر گامزن رہتا — لیکن معطل شدہ کے پی وزیراعلیٰ سے مشاورت کے بعد بات چیت ٹوٹ گئی۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے صوبے کے سابق وزیراعلیٰ اور موجودہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی دونوں سے کئی ملاقاتیں کیں اور مسائل حل کرنے کی مخلصانہ کوششیں کیں۔

ایڈوائزری کونسل اور دہشت گردی کے خلاف عزم

وزیراعظم نے بتایا کہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک ایڈوائزری کونسل قائم کی گئی ہے جس کے ارکان کی “بھاری اکثریت غیر سیاسی” اور معزز شخصیات ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے “تمام دستیاب وسائل اور انتظامی سہولتیں” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا، اور کہا کہ 2018 سے افغانستان سے دہشت گردی کی لہر اور دراندازی کے پیش نظر اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاک فوج کے افسروں کی قربانیوں کا ذکر کیا اور افسوس ظاہر کیا کہ حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت معصوم شہری بھی جاں بحق ہوئے۔

گوجرانوالہ کا دورہ

وزیراعظم وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ پارٹی کارکن بیرسٹر محمود ورک کی وفات پر تعزیت کے لیے گوجرانوالہ آئے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ معیشت اب مستحکم ہو چکی ہے اور بتدریج بحالی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے 75 ارب روپے کی فیول سبسڈی اسکیم کا بھی ذکر کیا جس سے ان کے بقول تقریباً 12 ملین افراد (موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان) مستفید ہوئے۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (18 اکتوبر 2026)، اے این آئی/لیٹسٹ لائی (18 اکتوبر 2026)۔ تمام دعوے اور اقوال متعلقہ فریق سے منسوب ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *