عمران، بشریٰ سے وکیل کی ملاقات، 7 ماہ بعد رسائی
پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ان کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے 2 نومبر کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات شام ساڑھے 4 بجے جیل حکام کی جانب سے سہولت فراہم کیے جانے کے بعد تقریباً 40 منٹ جاری رہی۔ بیرسٹر صفدر کے مطابق یہ ان کی عمران خان سے 7 ماہ بعد اور بشریٰ بی بی سے 11 ماہ بعد پہلی ملاقات تھی، جو بار بار کی درخواستوں کے بعد ممکن ہوئی۔
ملاقات میں کیا ہوا
بیرسٹر سلمان صفدر نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ملاقات کا دورانیہ تمام مقدمات اور قانونی امور پر تفصیلی بات چیت کے لیے ناکافی تھا۔ ان کے مطابق عمران خان اور بشریٰ بی بی نے انہیں اپنی صحت کی صورتحال اور جیل میں رہائش کے حالات سے آگاہ کیا اور بعض قانونی معاملات و مقدمات کے بارے میں تازہ ہدایات دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملاقات کا مقصد قانونی مشاورت تھا، اور اس میں کسی سیاسی گفتگو کا حوالہ نہیں دیا گیا۔
بار بار کی درخواستیں اور عدالتی احکامات
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب عمران خان اور بشریٰ بی بی تک خاندان اور وکلا کی رسائی کا معاملہ عدالتوں میں زیر بحث رہا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2 ستمبر 2026 کو اڈیالہ جیل حکام کو ہدایت کی تھی کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کے لیے بامعنی انسانی رابطہ، خاندان سے ملاقات، ورزش، مطالعے کا مواد اور جیل قواعد کے مطابق دیگر سہولتیں یقینی بنائی جائیں۔ اس سے پہلے جون میں بھی عدالت نے اسلام آباد کے ایڈووکیٹ جنرل کو ہدایت کی تھی کہ 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس میں اپیلوں کی تیاری کے لیے جوڑے اور ان کے وکیل کے درمیان 7 روز میں ملاقات کا انتظام کیا جائے۔
سلمان صفدر کی آخری ملاقات کب ہوئی تھی
بیرسٹر صفدر کی عمران خان سے آخری ملاقات 9 اپریل کو ہوئی تھی، جو 190 ملین پاؤنڈ کیس میں قانونی مشاورت کے لیے تھی۔ اس سے ایک روز پہلے، 8 اپریل کو، اسلام آباد ہائی کورٹ نے انہیں اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملنے کی اجازت دینے کا حکم دیا تھا۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے صفدر سے تفصیل سے بات کی ہے، اور صفدر نے بتایا کہ ملاقات متعدد عدالتوں میں دائر درخواستوں کے سلسلے میں ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظر بندی کا معاملہ https://niazitvnews.com/?p=3302 اور چوہدری نثار کا عمران خان کی رہائی تک کوئی پارٹی نہ بنانے کا اعلان https://niazitvnews.com/?p=3308
عمران خان اور بشریٰ بی بی کی قید کا پس منظر
عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں، جبکہ بشریٰ بی بی کو جنوری 2025 میں ایک الگ کیس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جوڑے کو دسمبر 2025 میں توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا سنائی گئی تھی، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے سرکاری دورے کے دوران سعودی ولی عہد کی جانب سے تحفے میں دیا گیا بلغاری جیولری سیٹ غیر قانونی طور پر اپنے پاس رکھا۔ اس کے علاوہ عمران خان القادر ٹرسٹ کیس سمیت دیگر مقدمات کا بھی سامنا کر رہے ہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کے لیے ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، خاندان، وکلا اور دیگر افراد سے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے۔
آگے کیا ہوگا
بیرسٹر صفدر کے مطابق 40 منٹ کی ملاقات تمام زیر التوا مقدمات پر بات کے لیے کافی نہیں تھی، اس لیے توقع ہے کہ قانونی ٹیم مزید ملاقاتوں کے لیے درخواستیں دے گی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس ملاقات کو وکلا تک رسائی کے معاملے میں ایک پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ جیل حکام کی جانب سے ملاقات کے انتظام پر کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ آئندہ دنوں میں عدالتوں میں زیر التوا درخواستوں پر ہونے والی کارروائی اس معاملے کی سمت طے کرے گی۔
ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، جیو نیوز، دنیا نیوز، پاکستان ٹوڈے، 2 نومبر 2026۔