نیب کی سہیل آفریدی حکومت کے منصوبوں کی تحقیقات

0

قومی احتساب بیورو (نیب) نے خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سابق صوبائی حکومت کے ترقیاتی منصوبوں کی جانچ پڑتال شروع کر دی ہے۔ اے آر وائی نیوز، اب تک اور آزاد ڈیجیٹل کی 24 اکتوبر 2026 کی رپورٹوں کے مطابق، نیب نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے دور کے ترقیاتی کاموں کا مکمل ریکارڈ طلب کیا گیا ہے۔ یہ خبر ذرائع پر مبنی ہے؛ نیب کی جانب سے اس بارے میں تاحال کوئی باضابطہ عوامی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔

نیب نے کون سا ریکارڈ مانگا ہے؟

ذرائع کے مطابق نیب نے صوبائی محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) سے مطالبہ کیا ہے کہ سہیل آفریدی کے دور میں تعمیر کی گئی سڑکوں کی تعداد اور ان کے ٹھیکے کن ٹھیکیداروں کو دیے گئے، اس کی مکمل تفصیل فراہم کی جائے۔ رپورٹوں کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں کے ٹھیکوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ محکمہ ریونیو، دفاعی ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے رجسٹرار، پشاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ڈی اے) اور دیگر متعلقہ محکموں کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں تاکہ مطلوبہ ریکارڈ جمع کرایا جا سکے۔

گنڈاپور اور سابق وزرا کے اثاثوں کا جائزہ

ذرائع کے مطابق نیب نے سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور سابق وزرا فضل حکیم اور ڈاکٹر امجد کے اثاثوں کا ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اثاثوں کی جانچ پڑتال مکمل ہونے کے بعد ان تینوں رہنماؤں کو نوٹس جاری کیے جا سکتے ہیں۔

دنیا نیوز کی ایک علیحدہ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر امجد علی کے خلاف اثاثے آمدن سے زائد ہونے کے الزام پر انکوائری جاری ہے، جس میں نیب نے 20 سے 22 اکتوبر کے دوران چار گواہوں کو بیانات ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا تھا۔ اس رپورٹ میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ نوٹس یا انکوائری کا اجرا اپنے آپ میں جرم ثابت ہونا نہیں ہے۔

بھرتیوں اور بدعنوانی کے الزامات کی جانچ

نیب ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کے دور حکومت میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور بدعنوانی میں ملوث افسران کے خلاف بھی جانچ سخت کی جا رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا دائرہ بھی وسیع کیا جا رہا ہے۔

یہ پیش رفت خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سامنے آئی ہے، جس کے بعد صوبے کی انتظامی صورتحال تبدیل ہو گئی تھی۔ پی ٹی آئی نے اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

یہ واضح رہے کہ اس خبر میں بیان کردہ تمام اقدامات انکوائری اور ریکارڈ طلبی کی سطح پر ہیں، اور کسی بھی شخص کے خلاف کوئی حتمی فیصلہ یا سزا سامنے نہیں آئی ہے۔

پی ٹی آئی کی خیبر پختونخوا تنظیم سے متعلق تازہ ترین صورتحال https://niazitvnews.com/?p=1749 میں دی گئی تھی، جبکہ پی ٹی آئی کی اندرونی کشمکش پر https://niazitvnews.com/?p=1328 میں تفصیل موجود ہے۔

ماخذ: اے آر وائی نیوز، اب تک، آزاد ڈیجیٹل، دنیا نیوز (ذرائع کے حوالے سے)۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *