گوہر: عمران نے کے پی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم نہیں کیا
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے منگل 3 نومبر کو راولپنڈی میں صحافیوں سے گفتگو میں ان میڈیا رپورٹس کی سختی سے تردید کی جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت کے خاتمے کا خیرمقدم کیا ہے۔ گوہر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے اڈیالہ جیل میں بیرسٹر سلمان صفدر سے ملاقات کے دوران ایسی کوئی بات نہیں کی، اور یہ خبر سراسر غلط ہے۔
“خان صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کی”
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ایک ٹی وی چینل نے غلط خبر دی کہ عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے پر خوش ہیں۔ ان کے الفاظ میں “یہ غلط ہے، خان صاحب نے ایسی کوئی بات نہیں کی، یہ رپورٹ مکمل طور پر جھوٹی ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے تمام پی ٹی آئی اراکین بانی کے ساتھ وفادار ہیں اور پارٹی کے اندر کسی فارورڈ بلاک کا کوئی وجود نہیں۔ صوبائی حکومت یا وزیر اعلیٰ کے امیدوار سے متعلق کوئی بھی فیصلہ صرف عمران خان کریں گے، اور کوئی شخص اچانک آگے آ کر حکومت بنانے یا امیدوار بننے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
380 دن بعد پہلی ملاقات
گوہر نے بتایا کہ بیرسٹر سلمان صفدر کی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات گزشتہ روز ایک قانونی مقدمے کے سلسلے میں ہوئی، اور یہ 8 اپریل کے بعد پہلی ملاقات تھی۔ ان کے مطابق ملاقاتوں پر پابندیوں نے ہی سیاسی کشیدگی کو ہوا دی، اور اگر ملاقاتیں جاری رہتیں تو شاید صورت حال ایمرجنسی اور گورنر راج تک نہ پہنچتی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کو ہفتے میں دو بار، منگل اور جمعرات کو، اہل خانہ، وکلا اور ساتھیوں سے ملاقات کی اجازت دے رکھی ہے، تاہم گوہر کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود رسائی تاحال بڑی حد تک محدود ہے۔
صحت اور بہنوں کی حراست پر تشویش
پی ٹی آئی چیئرمین نے عمران خان کی صحت اور جیل میں حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ دہرایا کہ بانی کا نجی ڈاکٹر سے معائنہ، طبی ٹیسٹ اور علاج کرایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کا حکم ہے اور اس پر عمل ہونا چاہیے۔ انہوں نے عمران خان کی تین بہنوں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان کی حراست پر بھی تنقید کی، جو ستمبر کے آخر سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت زیر حراست ہیں۔ گوہر نے کہا کہ ایک عام قیدی کو بھی اہل خانہ سے ملنے کا حق حاصل ہے، اور یہ حق عدالتی احکامات کے مطابق دیا جانا چاہیے۔
گورنر راج کا پس منظر اور آئندہ راستہ
یاد رہے کہ 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کر کے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت سے انتظامی اختیارات گورنر کو منتقل کر دیے گئے تھے، اور گورنر کی معاونت کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل تشکیل دی گئی تھی۔ گوہر نے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے وزیر اعلیٰ اور اسپیکر کیس کو لارجر بینچ کے سپرد کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا، تاہم عدالت سے جلد سماعت کی اپیل کی۔ انہوں نے جے یو آئی کے ساتھ اتحاد کے سوال پر کہا کہ صورت حال پیدا ہونے پر پارٹی اس پر غور کرے گی، اور مولانا فضل الرحمان کی اپنی جماعت اور سیاست ہے جس سے پی ٹی آئی کا کوئی تعلق نہیں۔ اڈیالہ سے اسلام آباد جیل یا بنی گالہ منتقلی کی خبروں کی بھی انہوں نے تردید کی۔
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3507
مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3424
ذرائع: ٹریبیون، ڈیلی پاکستان (3 نومبر 2026)