28ویں ترمیم: نئے صوبوں پر پی پی پی کو اعتماد نہیں

0

پاکستان میں 28ویں آئینی ترمیم اور نئے صوبوں کی تشکیل کی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔ دی نیشن کی یکم نومبر کی رپورٹ کے مطابق دسمبر میں اس آئینی پیکج کی منظوری کا امکان زیر بحث ہے، لیکن حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے اتحادیوں میں اس پر اتفاق رائے نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ اسے اس منصوبے پر اعتماد میں نہیں لیا گیا، جب کہ ایم کیو ایم پاکستان نے مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

حکومت کا موقف

وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے دی نیشن سے گفتگو میں کہا کہ حکومت نے ابھی 28ویں آئینی پیکج کو پارلیمنٹ میں پیش کرنا حتمی نہیں کیا ہے۔ ان کے مطابق آئینی پیکج تمام اتحادیوں کی رضامندی سے منظور ہوگا اور مسلم لیگ ن پارلیمنٹ میں باقاعدہ پیش کرنے سے پہلے تمام اتحادیوں سے مشاورت کرے گی۔ دسمبر میں منظوری کے سوال پر وزیر نے کہا کہ تمام اتحادیوں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔

پیپلز پارٹی کا اعتراض

پیپلز پارٹی کی سینئر رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے کہا کہ ان کی جماعت کو 28ویں آئینی ترمیم پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ ان کے مطابق انہیں نئے آئینی پیکج کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور نئی انتظامی اکائیوں یا صوبوں سے متعلق منصوبہ ان کے ساتھ شیئر نہیں کیا گیا۔ شازیہ مری نے کہا کہ قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ میں ہر ایک ووٹ کی اہمیت ہے، اور پیپلز پارٹی کے ارکان کے ووٹ کسی بھی قانون سازی کے لیے اہم ہوں گے۔

ایم کیو ایم کا متبادل راستہ

ایم کیو ایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، لیکن اس معاملے کو وزیر اعظم کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد کے ذریعے سادہ اکثریت سے بھی آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اعظم آئین کے آرٹیکل 48(6) کے تحت معاملہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھیج سکتے ہیں، اور منظوری کے بعد اسے عوامی ریفرنڈم کے لیے بھیجا جا سکتا ہے۔ یہ ایک ممکنہ روڈ میپ ہے، حتمی فیصلہ نہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر کا دعویٰ

دوسری جانب وزیر اعظم کے معاون خصوصی حذیفہ رحمان نے اے آر وائی نیوز کے پروگرام دی رپورٹرز میں کہا کہ 28ویں آئینی ترمیم سال ختم ہونے سے پہلے پیش کیے جانے کی توقع ہے اور اس کے مسودے پر نمایاں پیش رفت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق ترمیم ناگزیر ہے، مسودے کی کچھ تفصیلات ابھی حتمی ہونا باقی ہیں اور وقت میں ایک ہفتہ یا دس دن کا فرق آ سکتا ہے، لیکن ترمیم آگے بڑھے گی۔ حذیفہ رحمان نے کہا کہ اگر نئے صوبے 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نہیں بنے تو وہ کبھی نہیں بنیں گے۔

نئے صوبوں کے خاکے کیا ہیں؟

اسلام آباد میں نئے صوبوں کے دو مسابقتی مسودے گردش کرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ منٹ مرر کے مطابق ایک تجویز میں 32 نئے صوبے اور 33 نئی ہائی کورٹس کا تصور ہے، جب کہ دوسرے آئینی مسودے میں 20 صوبے اور 2 وفاقی اکائیاں اور صدارتی نظام کی تجویز ہے۔ یہ اطلاعات ذرائع سے منسوب ہیں، کوئی حتمی سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے پہلے کہا تھا کہ نئے انتظامی یونٹ صرف اس صورت میں بنیں گے جب عوام اس کی حمایت کریں۔

پس منظر اور سیاسی تناؤ

نئے صوبوں کی بحث چند ماہ قبل شروع ہوئی اور اس کے بعد سے سیاسی درجہ حرارت بڑھتا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم کی مخالفت کی ہے، جب کہ جنوبی پنجاب اور بہاولپور کے لیے پہلے سے منظور شدہ قراردادوں کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ ایک سینئر پارلیمنٹیرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ اس اہم معاملے پر اتفاق رائے بننے کے امکانات کم ہیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن آنے والے ہفتوں میں اتحادیوں اور اپوزیشن کو قائل کرنے کا کام شروع کرے گی، اور ریفرنڈم کے راستے کے بغیر ترمیم منظور کرنے کی کوشش کرے گی۔

آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت ضروری ہے، اس لیے اتحادیوں کی حمایت کے بغیر یہ پیکج منظور ہونا مشکل ہوگا۔ دسمبر کا مہینہ اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ اس میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہونے کی توقع ہے، لیکن ابھی تک کوئی بل پارلیمنٹ میں پیش نہیں ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: شہباز شریف کا کے پی سے متعلق اجلاس https://niazitvnews.com/?p=3027 اور گلگت بلتستان یوم آزادی اور وزیر اعظم کا دورہ https://niazitvnews.com/?p=2999

ماخذ: دی نیشن، اے آر وائی نیوز اور منٹ مرر کی 31 اکتوبر تا یکم نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *