حوثیوں کا راس تنورہ ریفائنری پر میزائل حملے کا دعویٰ

0

یمن کے حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے منگل 27 اکتوبر 2026 کو سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری راس تنورہ کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ حملے کے نتیجے میں ریفائنری میں بڑے پیمانے پر آگ لگی ہے۔ تاہم سعودی حکام نے راس تنورہ پر براہ راست حملے کی تصدیق نہیں کی ہے، اور نقصان کی حد تاحال واضح نہیں ہے۔

ریاض میں وزارت دفاع اور ابہا ایئرپورٹ کا دعویٰ

یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں مزید دعویٰ کیا کہ حوثیوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں وزارت دفاع کو بھی بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا اور ان کے بقول نشانہ براہ راست لگا ہے۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو ڈرون سے نشانہ بنایا گیا۔ ان دعووں کی سعودی حکام کی طرف سے آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے، اس لیے یہ دعوے حوثیوں کے اپنے بیان کی حد تک ہی ہیں۔

سعودی اتحاد کا موقف: میزائل روک لیے گئے

دوسری طرف سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے مشرقی صوبے کی طرف داغے گئے میزائل روک لیے ہیں۔ اتحاد کے ترجمان کے مطابق ریاض کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضائی دفاع نے تباہ کر دیے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے صحافیوں نے بتایا کہ منگل کو ریاض میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، اور شہریوں کو موبائل فون پر فضائی خطرے سے خبردار کرتے ہوئے پناہ لینے کا پیغام بھی موصول ہوا۔

راس تنورہ کے قریب آگ کی اطلاع

سمندری سلامتی کی ایجنسی وینگارڈ نے بتایا کہ منگل کی صبح راس تنورہ کے علاقے میں آگ لگی تھی جس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ بلومبرگ نے بھی ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنی سب سے بڑی آئل برآمدی ٹرمینل راس تنورہ کے قریب لگی آگ پر قابو پا لیا ہے۔ آگ سے آئل لوڈنگ کے کام پر کیا اثر پڑا، یہ تاحال واضح نہیں ہے۔

راس تنورہ کیوں اہم ہے

راس تنورہ سعودی عرب کے مشرقی ساحل پر خلیج کے کنارے واقع ہے اور سعودی تیل کی صنعت کا ایک اہم مرکز ہے۔ اس کمپلیکس کی ریفائننگ صلاحیت تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار بیرل یومیہ ہے، اور اس میں تیل کی برآمد کے لیے اہم ٹرمینل بھی شامل ہے۔ سعودی عرب کی تقریباً تمام تیل برآمدات دو بڑی بندرگاہوں سے ہوتی ہیں: خلیج میں راس تنورہ اور بحیرہ احمر میں ینبو، اور دونوں ہی ماضی میں حوثی حملوں کا نشانہ بن چکی ہیں۔ اسی لیے راس تنورہ پر حملے کے دعوے نے عالمی تیل منڈی میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

باب المندب کے قریب لڑائی کا دعویٰ

حوثیوں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی فوجی طیاروں کو نشانہ بنایا اور بحیرہ احمر کے اہم راستے باب المندب کے قریب سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پیش قدمی کو پسپا کر دیا ہے۔ باب المندب دنیا کی مصروف ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک ہے، اس لیے وہاں لڑائی کی خبریں عالمی تجارت کے لیے بھی تشویش کا باعث بنتی ہیں۔

پس منظر: کشیدگی میں اضافہ

یمن اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں حالیہ ہفتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ حوثیوں کے سعودی اہداف پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ سعودی اتحاد یمن میں حوثی ٹھکانوں پر کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس سے ایک روز قبل 26 اکتوبر کو بھی ریاض پر حوثی میزائل حملے کی کوشش ناکام بنائی گئی تھی، جس کی تفصیل اس سے قبل شائع ہو چکی ہے۔ مصر کی پارلیمنٹ نے بھی 26 اکتوبر کو سعودی عرب کے دفاع کے لیے فوجی مدد کی منظوری دی تھی، جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی علامت ہے۔

مزید تفصیلات سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ سعودی حکام کی طرف سے راس تنورہ اور وزارت دفاع سے متعلق دعووں پر کوئی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے آتے ہی اس کی اطلاع دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: ریاض پر حوثی میزائل حملہ ناکام، فضائی دفاع نے گرایا

مزید پڑھیں: مصر کی پارلیمنٹ نے سعودی دفاع کی منظوری دے دی

ذرائع: رائٹرز، اے ایف پی، ڈان لائیو، جیروزلم پوسٹ، ٹائمز ناؤ، 27 اکتوبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *