شہباز شریف: کے پی میں فوری ریلیف، طویل منصوبے روکیں
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کو روک کر فوری اور چھوٹے عوامی ریلیف کے اقدامات کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے 31 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر امن و امان بہتر کیا جائے، اسکول بنایا جائے اور اسپتالوں تک دوائیں پہنچائی جائیں تو برسوں سے محروم عوام دعائیں دیں گے۔ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں 13 سال تک پاکستان تحریک انصاف کی حکومت رہی اور اس دوران عوام کو ترقیاتی سہولتوں سے محروم رکھا گیا۔
اجلاس میں وزیراعظم نے کیا کہا
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ طویل منصوبوں کی بجائے وہ چھوٹے اقدامات زیادہ اہم ہیں جن کا فائدہ عوام کو فوری طور پر پہنچے۔ ان کے بقول، صوبے کے عوام، پولیس، مسلح افواج اور سیاسی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، اور اس جنگ میں پاکستان کو جانی و مالی دونوں طرح کے بڑے نقصانات برداشت کرنا پڑے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن نے صوبے میں جمہوری روایات کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے، اور 2013 کے عام انتخابات کے بعد اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے خیبر پختونخوا میں اکثریتی جماعت کو حکومت بنانے کی اجازت دی تھی۔
وزیراعظم نے تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے ترقیاتی منصوبوں کے بڑے دعوے کیے، لیکن سوال یہ ہے کہ عملی طور پر کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے صوبے میں صحت کی سہولتوں، دواؤں کی فراہمی، علاج کے انتظامات اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیے گئے اقدامات پر بھی سوالات اٹھائے، اور کہا کہ عوامی فنڈز کے شفاف استعمال اور وسائل کے استعمال کا حساب بھی ضروری ہے۔
گورنر راج کا دفاع اور مذاکرات کا ذکر
وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ عوام، ملک، معیشت اور معاشرے کے تحفظ کے لیے ضروری ہو گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے صوبے میں 11 اکتوبر 2026 کو گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کی تھی، جس کے بعد صوبائی حکومت کے اختیارات عملاً ختم ہو گئے تھے۔ نئے انتظام کے تحت گورنر فیصل کریم کنڈی، جو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں، وفاق کی جانب سے 11 رکنی مشاورتی کونسل کی مدد سے صوبائی حکومت کے فرائض انجام دے رہے ہیں، جبکہ صوبائی اسمبلی کے قانون سازی کے اختیارات پارلیمنٹ استعمال کر رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ فیصلے سے پہلے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے کی کوشش کی گئی۔ ان کے بقول، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹیوں نے تحریک انصاف کے ساتھ 48 گھنٹے مذاکرات کیے اور ایک مسودے پر اتفاق بھی ہو گیا تھا، لیکن اس مسودے کی منظوری نہیں مل سکی۔ وزیراعظم نے کہا کہ اگر بروقت فیصلہ نہ لیا جاتا تو صوبے کو مزید نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلم لیگ ن صوبے کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کے لیے کوششیں جاری رکھے گی۔
سیکیورٹی صورتحال پر وزیراعظم کا موقف
وزیراعظم نے کہا کہ 2017 اور 2018 کے دوران قوم اور ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششوں سے خیبر پختونخوا سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا تھا۔ ان کے بقول، 2019 اور 2020 میں دہشت گردوں کو افغانستان سے واپس لا کر دوبارہ آباد کیا گیا، جس سے دہشت گردی کی لہر دوبارہ اٹھی اور ملک کو بڑا نقصان پہنچا۔ انہوں نے پشاور میں آرمی پبلک اسکول کے سانحے کو بھی یاد کیا اور کہا کہ یہ واقعہ قوم کے ذہن میں آج بھی تازہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق، وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کے تحت خیبر پختونخوا کو اضافی وسائل ملے، جن میں انسداد دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے رقم بھی شامل تھی، لیکن اس کے باوجود صوبے میں سیف سٹی منصوبے اور پولیس کی خالی آسامیوں جیسے مسائل حل نہ ہو سکے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اتنے وسائل کے باوجود انسداد دہشت گردی کا نظام کیوں مضبوط نہ کیا گیا۔ وزارت داخلہ کی جانب سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ 2026 کے پہلے نو ماہ میں 5,143 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 2,410 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا۔
عوامی ریلیف کے اقدامات کا ذکر
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں عوامی ریلیف کے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ ان کے بقول، فروری میں شروع کیے گئے فیول سبسڈی پروگرام کے لیے 75 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جس کے تحت تقریباً 13 کروڑ شہریوں کو ریلیف واؤچرز فراہم کیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کی قیادت کو چاہیے کہ وہ عوامی فلاح کے چھوٹے اور فوری منصوبوں پر توجہ دے، تاکہ برسوں کی محرومی کا ازالہ ہو سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد صوبے کے سیاسی اور انتظامی مستقبل پر بحث جاری ہے، اور وفاقی حکومت صوبے میں ترقیاتی و سیکیورٹی اقدامات کو اپنی ترجیح بتا رہی ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے اس خطاب پر فوری ردعمل کی خبر تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبریں گلگت بلتستان یوم آزادی: شہباز شریف آج دورہ کریں گے اور پی ٹی آئی کی کے پی مذاکراتی کمیٹی بھی پڑھیں۔
ماخذ: جیو نیوز، پاکستان ٹوڈے اور ڈیلی کیپیٹل میل، 31 اکتوبر 2026۔