طوفان ارناب: 4711 حاملہ خواتین منتقل، اسکول بند
طوفان ارناب کے 28 اکتوبر کو آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے سے قبل بھارتی ریاستوں آندھرا پردیش اور اوڈیشہ میں انخلا اور حفاظتی اقدامات تیز کر دیے گئے ہیں۔ آندھرا پردیش میں کمزور علاقوں سے 4711 حاملہ خواتین کو بنیادی صحت مراکز، کمیونٹی صحت مراکز اور اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ 14 اضلاع میں 27 سے 31 اکتوبر تک تمام تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔
آندھرا پردیش میں کیا اقدامات ہوئے؟
آندھرا پردیش کے وزیراعلیٰ این چندرابابو نائیڈو نے تیاریوں کا جائزہ لیتے ہوئے سری کاکلم، وجیا نگرم، وشاکھاپٹنم، کونسیما، مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری، ایلورو، کرشنا، این ٹی آر، گنٹور، پلناڈو، بپٹلہ، پرکاسم اور نیلور اضلاع کے نشیبی علاقوں سے انخلا کا حکم دیا۔ نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 7 اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس کی 8 ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، جبکہ این ٹی آر اور وشاکھاپٹنم اضلاع میں اضافی دستے ریزرو میں رکھے گئے ہیں۔ ہاسٹلز میں رہنے والے طلبہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ وارڈن سے رابطہ کریں اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں۔
اوڈیشہ میں تیاری
اوڈیشہ حکومت نے گنجام، گجاپتی، رایا گڑھا، ملکانگیری، کوراپٹ اور نابارنگ پور سمیت چھ اضلاع میں سمندر میں ماہی گیری اور پہاڑوں، آبشاروں اور ڈیموں میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی لگا دی ہے۔ وزیراعلیٰ موہن چرن ماجھی نے تیاریوں کی نگرانی کے لیے آٹھ وزرا مختلف مقامات پر تعینات کر دیے ہیں۔ اس سے قبل اوڈیشہ میں پانچ اضلاع میں اسکول اور کالج منگل اور بدھ کو بند رکھنے کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔
طوفان کہاں ہے اور کب ٹکرائے گا؟
بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) کے مطابق پیر 26 اکتوبر کی صبح ساڑھے پانچ بجے طوفان ارناب مشرقی وسطی اور ملحقہ مغربی وسطی خلیج بنگال میں وشاکھاپٹنم سے تقریباً 650 کلومیٹر اور کاکیناڈا سے 730 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق میں موجود تھا اور مغرب کی جانب تقریباً 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بڑھ رہا تھا۔ محکمہ کے مطابق یہ نظام 26 اکتوبر کی آدھی رات تک شدید طوفان اور 27 اکتوبر تک انتہائی شدید طوفان میں تبدیل ہو جائے گا، اور 28 اکتوبر کی صبح بپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان یانم کے قریب ساحل سے ٹکرائے گا۔ ٹکرانے کے وقت ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ رہنے اور جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔
کتنے لوگ خطرے میں ہیں؟
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آندھرا پردیش کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے تقریباً 5 لاکھ 70 ہزار افراد کو خطرے میں قرار دیا ہے اور انخلا پیر کی شام سے شروع ہونا تھا۔ سمندر میں موجود کشتیوں کو واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے اور بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی انتظامات کیے گئے ہیں۔ خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان میں 28 اکتوبر تک ماہی گیری مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہے۔ آندھرا پردیش میں انخلا کی ابتدائی تفصیل یہاں (https://niazitvnews.com/?p=2076) پڑھی جا سکتی ہے، جبکہ طوفان کے ٹکرانے کی پہلی پیش گوئی کی خبر یہاں (https://niazitvnews.com/?p=1944) موجود ہے۔
ذرائع: انڈین ایکسپریس، اکنامک ٹائمز، دی نیوز منٹ اور دی ویک کی 26 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔