عراقچی: جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسی برقرار رہے گی
عراقچی: جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسی برقرار رہے گی — ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اتوار 25 اکتوبر کو کہا ہے کہ آئندہ جنگ ہو یا نہ ہو، ایران کی پالیسیاں اپنی جگہ برقرار رہیں گی۔ ایرانی خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق عراقچی نے یہ بات تہران میں شہید سید کمال خرازی دستاویزی مرکز اور عجائب گھر کے افتتاح کے موقع پر کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی عقلیت ہو تو امریکا ایران پر دوبارہ فوجی کارروائی کی کوشش نہیں کرے گا۔
عراقچی نے کیا کہا؟
آئی ایس این اے کے مطابق عراقچی نے کہا: “آج جنگ کی باتیں پھر سامنے آ رہی ہیں، لیکن اب سے میں جنگ کے بارے میں سوچ رہا ہوں؛ جنگ ہو یا نہ ہو، ہماری پالیسیاں اپنی جگہ رہیں گی۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر عقلیت موجود ہو تو وہ ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی نہیں کریں گے۔
عراقچی نے آبنائے ہرمز کے بارے میں بھی واضح موقف اختیار کیا۔ ان کے مطابق 40 روزہ جنگ کے بعد آبنائے ہرمز پہلے والی حالت میں واپس نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں ایک نئی حقیقت نے جنم لے لیا ہے اور ماضی جیسی صورتحال اب نہیں رہے گی۔ عراقچی نے اس جنگ کو خطے کی تاریخ کا ایک موڑ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے تمام سلامتی کے ڈھانچے الٹ پلٹ ہو گئے ہیں۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر عروج پر ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران پر حملے کے امکان کا اشارہ دیا تھا۔
ٹرمپ کی دھمکی اور نومبر کی مہلت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو فلوریڈا میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ ایران پر حملہ ممکن ہے، “شاید کل” — لیکن اس کے ساتھ ہی انہوں نے ایک “خوبصورت بڑے معاہدے” کا امکان بھی کھلا رکھا تھا۔ اس سے پہلے ٹرمپ نے 8 اکتوبر کو سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔
ٹرمپ کے خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے بھی جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اس ہفتے کے آخر میں حملہ ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب ایرانی فوج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے — ایرانی آرمی کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی جہانشاہی نے فوجیوں کو خبردار کیا تھا کہ جنگی حالات میں کسی بھی غفلت کے سنگین نتائج ہو سکتے ہیں۔
مذاکرات کہاں کھڑے ہیں؟
ایرانی موقف کے مطابق تہران کا سات روزہ منصوبہ اب بھی میز پر موجود ہے — اس منصوبے کے تحت آبنائے ہرمز کو سات روز میں دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی بحری ناکہ بندی کے خاتمے سے مشروط کسی مساوات کو قبول نہیں کرتا۔ ایران نے اس خبر کی بھی تردید کی ہے کہ اس نے پاکستان کے ذریعے امریکا کو آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی نئی پیشکش کی ہے۔ تسنیم خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی ذرائع نے سعودی ذرائع ابلاغ کی اس رپورٹ کو جھوٹ اور من گھڑت قرار دیا تھا۔
دوسری جانب پاکستان اور قطر کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے حالیہ تہران دورے میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی تھی۔ اس پس منظر میں عراقچی کا تازہ بیان یہ پیغام دیتا ہے کہ تہران کسی بھی صورت میں اپنی بنیادی پالیسی سے پیچھے نہیں ہٹے گا، چاہے مذاکرات کامیاب ہوں یا کشیدگی بڑھے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ ایران حملہ — اتوار کی دھمکی یا 3 نومبر تک انتظار؟ — https://niazitvnews.com/?p=1901
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز — ایران نے امریکا کو پیشکش کی تردید کر دی — https://niazitvnews.com/?p=1812
ذرائع: آئی ایس این اے، ریپبلک ورلڈ، انڈین ایکسپریس۔