قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے پر ملتوی
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات 29 اکتوبر کو کورم پورا نہ ہونے کے باعث ملتوی کر دیا گیا۔ اسپیکر سردار ایاز صادق نے ارکان کی گنتی کے بعد ایوان کی کارروائی روکنے کا اعلان کیا، جس سے توجہ دلاؤ نوٹسز، تحریکیں، بلز اور قراردادوں سمیت طے شدہ قانون سازی کا کام رک گیا۔
اجلاس کا آغاز اور کورم کی نشاندہی
قومی اسمبلی کا اجلاس صبح 11 بج کر 9 منٹ پر اسپیکر سردار ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس شروع ہونے کے کچھ ہی دیر بعد رکن میاں فیاض حسین چھجڑا نے کورم کی کمی کی نشاندہی کی۔ اس پر اسپیکر نے ایوان میں حاضری کی گنتی کا حکم دیا۔ گنتی کے بعد اسپیکر نے اعلان کیا کہ ایوان کا کورم پورا نہیں ہے اور کارروائی اس وقت تک کے لیے روک دی گئی جب تک کورم مکمل نہ ہو جائے۔
کیا کام رک گیا
کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایوان میں طے شدہ کاروبار آگے نہ بڑھ سکا۔ ایجنڈے میں توجہ دلاؤ نوٹسز، مختلف تحریکیں، بلز کی پیش کش اور قراردادیں شامل تھیں۔ پارلیمانی روایت کے مطابق جب کورم پورا نہ ہو تو اسپیکر اجلاس ملتوی کر دیتے ہیں یا وقفہ دیتے ہیں تاکہ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری ہو سکے۔
کورم کیا ہوتا ہے
قومی اسمبلی کے قواعد کے تحت ایوان کی کارروائی کے لیے ارکان کی ایک کم از کم تعداد کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس تعداد کے بغیر کوئی فیصلہ یا قانون سازی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اسی لیے کورم کی نشاندہی پارلیمنٹ میں ایک عام طریقہ کار ہے جسے اپوزیشن یا حکومتی ارکان وقتاً فوقتاً استعمال کرتے ہیں۔
حالیہ پارلیمانی صورتحال کا پس منظر
قومی اسمبلی میں ان دنوں اہم سیاسی بحث جاری ہے۔ گزشتہ روز جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ایوان میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کو آئین کا غلط استعمال قرار دیا تھا، جبکہ حکومت نے جواب دیا تھا کہ گورنر راج صرف چھ ماہ کے لیے ہے اور ایمرجنسی دہشت گردی سے متاثرہ چند اضلاع تک محدود ہے۔ اسی پس منظر میں آج کے اجلاس کا کورم پورا نہ ہونا پارلیمانی کارروائی میں ایک اور تعطل کا باعث بنا ہے۔
آگے کیا ہوگا
اسپیکر کے اعلان کے بعد یہ توقع کی جاتی ہے کہ ارکان کی مطلوبہ تعداد پوری ہونے پر اجلاس کی کارروائی دوبارہ شروع ہوگی اور ایجنڈے میں شامل امور پر بحث ہو سکے گی۔ پارلیمانی ماہرین کے مطابق کورم کا مسئلہ عام طور پر عارضی ہوتا ہے اور ارکان کے ایوان میں واپس آنے سے حل ہو جاتا ہے، تاہم اگر ارکان کی حاضری مسلسل کم رہے تو قانون سازی کا کام متاثر ہو سکتا ہے۔ شہریوں کے لیے یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ قومی اسمبلی میں زیر التوا بلز اور قراردادیں براہ راست عوامی زندگی، معیشت اور انتظامی امور سے جڑی ہوتی ہیں۔
مزید تفصیل: فضل الرحمان: کے پی میں گورنر راج آئین کا غلط استعمال اور پی ٹی آئی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات لڑے گی
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) بذریعہ اردو پوائنٹ — 29 اکتوبر 2026