پیرس فائرنگ: میکرون کا ‘نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ’ قرار
پیرس — فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی علاقے ٹراپس میں جمعے کے روز ایک مسلح شخص نے کار سے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں 1 شخص جاں بحق اور 5 زخمی ہو گئے۔ فرانسیسی حکام نے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا ہے، جبکہ صدر ایمانوئل میکرون نے اس واقعے کو “نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ” قرار دیا ہے۔
میکرون کا سخت ردعمل
فرانسیسی حکام کے مطابق حملہ آور نے گاڑی سے اتر کر اندھا دھند فائرنگ کی۔ پولیس اور انسداد دہشت گردی یونٹس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
صدر ایمانوئل میکرون نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک نسل پرستانہ دہشت گرد حملہ ہے۔ فرانسیسی حکام کے مطابق اس واقعے کی تحقیقات دہشت گردی کے زاویے سے کی جا رہی ہے، اور حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت نسل پرستانہ محرکات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
فرانسیسی میڈیا کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ حکام نے ابھی تک متاثرین کی شناخت ظاہر نہیں کی۔
فرانس میں کشیدہ صورتحال
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب فرانس پہلے ہی شدید بدامنی کا شکار ہے — ملک بھر میں مہنگائی اور عوامی سہولتوں میں کمی کے خلاف مظاہروں نے حالیہ برسوں کے بدترین فسادات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ فرانس میں آج کے ملک گیر مظاہروں کی تفصیل یہاں پڑھیں۔
اردن میں بھی حال ہی میں ایک چرچ کی آخری رسومات کے دوران فائرنگ کا المناک واقعہ پیش آیا تھا — تفصیل یہاں۔
فرانسیسی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔
ماخذ: بی بی سی، سی بی ایس نیوز۔