کیوبا پابندی پر اقوام متحدہ میں آج ووٹ، امریکا کیوبا جھڑپ
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی آج بدھ 28 اکتوبر کو کیوبا پر امریکا کی کئی دہائیوں پرانی اقتصادی پابندی کی مذمت کی قرارداد پر ووٹ دے گی۔ یہ قرارداد 1992 سے ہر سال پیش کی جاتی ہے اور ہمیشہ بھاری اکثریت سے منظور ہوتی رہی ہے، مگر اس بار ووٹ سے ایک روز قبل بحث کے دوران امریکی اور کیوبا کے سفیروں کے درمیان ایسی شدید جھڑپ ہوئی کہ اجلاس معطل کرنا پڑا۔ گزشتہ سال یہ قرارداد 165 ووٹوں سے منظور ہوئی تھی، 7 ممالک نے مخالفت کی تھی اور 12 نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا تھا۔
اجلاس میں کیا ہوا؟
منگل کو بحث کے دوران اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیک والٹز نے کیوبا کی حکومت پر بدعنوانی اور جبر کا الزام لگایا اور سابق کیوبا رہنما فیڈل کاسترو کی دو رولیکس گھڑیوں کی تصویر دکھائی، جن کی قیمت کا دعویٰ تقریباً 40 ہزار ڈالر فی گھڑی بتایا گیا۔ اس پر کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگز پوڈیم کی طرف بڑھے، امریکی سفیر کو جھوٹا قرار دیا اور طریقہ کار کی نکتہ اٹھانے کا مطالبہ کیا۔ دونوں کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جنرل اسمبلی کے صدر نے نظم بحال کرنے کی کوشش کی اور بالآخر اجلاس معطل کر دیا گیا۔ بعد میں روڈریگز نے والٹز کے الزامات کو مضحکہ خیز جھوٹ قرار دیا، جبکہ والٹز نے اپنی تنقید جاری رکھی۔
پابندی کیوں زیر بحث ہے؟
امریکا کی کیوبا پر پابندی چھ دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ کیوبا کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2025 سے فروری 2026 کے دوران پابندی سے کیوبا کو 8.056 ارب ڈالر کا نقصان ہوا، جبکہ چھ دہائیوں میں مجموعی نقصان 178.7 ارب ڈالر سے زیادہ بتایا جاتا ہے۔ کیوبا کا کہنا ہے کہ جنوری سے توانائی کی ناکہ بندی کے باعث ایندھن کی قلت اور بجلی کی بندش میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکا کا موقف ہے کہ وہ سمندری ناکہ بندی نہیں کر رہا اور رواں سال کیوبا کو تجارتی ترسیلات بھیجی گئی ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے ایک بار پھر فوجی مداخلت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی جنگی جہاز ایران جنگ سے واپسی پر کیوبا میں رک سکتے ہیں، جبکہ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کیوبا کے شہریوں سے سی آئی اے کے ساتھ خفیہ تعاون کی اپیل کی تھی۔
اس بار ووٹ کیوں مختلف ہو سکتا ہے؟
یہ قرارداد قانونی طور پر پابند نہیں ہوتی، مگر اسے عالمی رائے کا اظہار سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ 34 برسوں میں یہ قرارداد ہر بار بھاری اکثریت سے منظور ہوئی ہے، لیکن اس بار ٹرمپ انتظامیہ کھل کر دیگر ممالک سے قرارداد کی مخالفت کے لیے لابنگ کر رہی ہے، اس لیے یہ واضح نہیں کہ اس بار مخالفت یا غیر حاضری میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔ ووٹ سے قبل 11 سابق کیریبین سربراہان نے بھی مشترکہ خط میں تمام ممالک سے قرارداد کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی ہے، جس میں پابندی کو بین الاقوامی قانون اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان اور خطے کے لیے اہمیت
اقوام متحدہ میں یہ بحث ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ اور عالمی سطح پر کشیدگی پہلے ہی بلند ہے، اور پاکستان بھی سلامتی کونسل میں سفارتکاری پر زور دے رہا ہے۔ جنرل اسمبلی کا آج کا ووٹ یہ ظاہر کرے گا کہ عالمی برادری کی رائے پابندی کے معاملے پر کس سمت جا رہی ہے، اور کیا امریکی دباؤ اس رائے کو بدل سکا ہے یا نہیں۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے موقف پر ہماری خبر https://niazitvnews.com/?p=2354 اور امریکا ایران ثالثی کی کوششوں پر https://niazitvnews.com/?p=1162 بھی پڑھیں۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، اقوام متحدہ نیوز، دی ہندو، منی کنٹرول — 28 اکتوبر 2026۔