گورنر راج سے انتخابی اصلاحات اور سی ای سی تقرری رک گئی
خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ملک میں انتخابی اصلاحات اور نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا عمل رک گیا ہے، کیونکہ اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف اب ان دونوں معاملات پر آگے بڑھنے سے پہلے گورنر راج کی واپسی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومت کو اس وقت دو محاذوں پر مشکلات کا سامنا ہے: انتخابی اصلاحات کے لیے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل اور چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر نئی تقرری۔
پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کیا ہے
انتخابی اصلاحات کے لیے مجوزہ پارلیمانی کمیٹی، جسے پی سی ای آر کہا جاتا ہے، 2017 کے انتخابی اصلاحات کے فریم ورک پر نظرثانی کر کے آئندہ عام انتخابات کے لیے ایک نیا منصوبہ تیار کرے گی۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اس کمیٹی کی تشکیل کی تجویز دی تھی اور اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے کہا تھا کہ وہ کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کریں، کیونکہ اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کو ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک وفد نے سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجہ ناصر عباس سے بھی ملاقات کر کے کمیٹی میں شرکت کی درخواست کی تھی۔
چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کیوں رکی ہوئی ہے
آئین کے تحت قومی اسمبلی میں قائد ایوان یعنی وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف مشترکہ مشاورت سے چیف الیکشن کمشنر کے لیے تین نام تجویز کرتے ہیں۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی آئینی پانچ سالہ مدت 26 جنوری 2025 کو ختم ہو چکی ہے، لیکن 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت شامل کی گئی شق کے باعث وہ نئے کمشنر کی تقرری تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں۔ اسی طرح سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی تقرریاں بھی التوا کا شکار ہیں، جن کی مدتیں بھی 26 جنوری 2025 کو ختم ہوئی تھیں اور آئین کے آرٹیکل 215 کے تحت 45 دن کے اندر یعنی 12 مارچ 2025 تک ان عہدوں پر تقرریاں ہونی چاہییں تھیں۔
اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر نئے چیف الیکشن کمشنر اور سندھ و بلوچستان کے ارکان کی فوری تقرری کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم اب اپوزیشن اس عمل کو حتمی شکل دینے سے گریز کر رہی ہے، کیونکہ وہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے خاتمے کو اپنی شرط بنا رہی ہے۔ اس سے قبل سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے بھی وزیراعظم کو اسی معاملے پر خط لکھا تھا۔
ماہرین اور حکومت کا موقف
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اور آئینی ماہر کنور دلشاد نے کہا ہے کہ حکومت پارلیمانی کمیٹی بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے، لیکن چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا معاملہ ابھی حل طلب ہے۔ ان کے مطابق اگلے عام انتخابات کے لیے نئے چیف الیکشن کمشنر کی رائے اہم ہوگی، اس لیے اپوزیشن لیڈر کو آئینی تقاضوں کے مطابق نام آگے بڑھانے چاہییں۔ دوسری جانب وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ حکومت جان بوجھ کر تقرری میں تاخیر کر رہی ہے، اور کہا ہے کہ وزیراعظم نے اپوزیشن لیڈر کے خط کا جواب دیا ہے اور یہ عمل آئین کے مطابق مکمل کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ کر کے صوبے کو گورنر راج کے تحت لے لیا تھا، جس کے بعد سے صوبائی حکومت غیر فعال ہے۔ پی ٹی آئی کے خیبر پختونخوا کے ارکان نے مرکز سے مذاکرات کی حمایت کی ہے تاکہ گورنر راج اور ایمرجنسی کا خاتمہ ہو سکے، لیکن اصلاحات اور تقرریوں کا معاملہ اسی سیاسی کشمکش میں پھنسا ہوا ہے۔
پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر پی ٹی آئی میں اندرونی لڑائی شدت اختیار کر گئی بھی پڑھیں — اور انتخابی اصلاحات کے پس منظر پر پی پی پی کا اپوزیشن سے بائیکاٹ ختم کرنے کا مطالبہ بھی پڑھیں۔
ذرائع: دی نیشن، ڈان، 4 نومبر اور 30 اکتوبر 2026۔