پاکستان جرنلسٹ فیڈریشن اسلام آباد کا قیام صحافیوں کے لیے بڑے اقدامات تعلیم صحت پلاٹ ملنے لگے صدر عباس شاہ کے بڑے دعوے

0
1000553989

عباس شاہ کے اعلانات، دعوے اور صحافتی حلقوں میں اٹھنے والے سوالات پاکستان میں صحافتی

تنظیمیں ہمیشہ سے بحث، اختلاف اور نئی تشکیل کے مراحل سے گزرتی رہی ہیں۔ انہی حالیہ دنوں میں اسلام آباد میں ایک نئی تنظیم “فیڈرل نیشنل پریس کلب” اور پاکستان جرنلسٹ فیڈریشن کے حوالے سے عباس شاہ کے اعلانات اور بیانات نے صحافتی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔عباس شاہ جو خود کو پاکستان جرنلسٹ فیڈریشن اور اسلام آباد سے منسلک پریس کلب کے صدر کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کے مطابق انہوں نے ملک بھر میں صحافیوں کی ایک بڑی نیٹ ورکنگ قائم کی ہے جس میں ان کے دعوے کے مطابق ہزاروں صحافی شامل ہو چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ پلیٹ فارم صرف اسلام آباد تک محدود نہیں بلکہ ملک کے مختلف اضلاع اور ڈویژنز تک پھیل چکا ہے۔ان کے اعلانات کے مطابق اس نیٹ ورک میں صحافیوں کی باقاعدہ رجسٹریشن کے لیے کیو آر کوڈ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے، جس کے ذریعے کسی بھی صحافی کی رکنیت کی تصدیق آن لائن کی جا سکتی ہے۔ وہ یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ اس وقت ان کے پلیٹ فارم پر آٹھ ہزار سے زائد صحافی بطور ممبر رجسٹرڈ ہیں۔مزید برآں عباس شاہ کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی تنظیم صحافیوں کے لیے مختلف فلاحی اقدامات کر رہی ہے جن میں قانونی معاونت، ہسپتالوں میں مفت یا رعایتی علاج، لیبارٹریز کے ساتھ معاہدے اور تعلیمی اداروں میں صحافیوں کے بچوں کے لیے فیسوں میں کمی جیسے اقدامات شامل ہیں۔اسی طرح ان کے مطابق مستقبل میں صحافیوں کے لیے رہائشی منصوبہ اور پلاٹوں کی فراہمی جیسے بڑے اعلانات بھی زیر غور ہیں، جن کا مقصد ان کے بقول یہ ہے کہ “ہر صحافی کے پاس اپنی چھت ہو”۔تاہم دوسری جانب صحافتی حلقوں میں ان اعلانات اور دعوؤں پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ بعض صحافی ان اقدامات کو مثبت اور فلاحی قرار دیتے ہیں جبکہ کچھ حلقے تنظیمی ڈھانچے، قانونی حیثیت اور عملدرآمد کے طریقہ کار پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔خصوصاً “نیشنل پریس کلب” کے نام اور اس کے متوازی ایک نئے پلیٹ فارم کے قیام پر صحافتی حلقوں میں بحث جاری ہے کہ آیا اس سے موجودہ ادارہ جاتی ڈھانچے کو تقویت ملے گی یا تقسیم پیدا ہوگی۔یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان میں صحافت صرف خبر رسانی کا پیشہ نہیں بلکہ تنظیمی، معاشی اور ادارہ جاتی چیلنجز سے بھی جڑی ہوئی ہے، جہاں ہر نئی پیش رفت ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔فی الحال عباس شاہ اور ان کی ٹیم کی جانب سے کیے گئے اعلانات عملی سطح پر کس حد تک مکمل ہوتے ہیں، یہ آنے والا وقت ہی واضح کرے گا۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ ان کے بیانات نے صحافتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جس پر مختلف زاویوں سے گفتگو جاری ہے۔

صحافی حسن نیازی

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔