پشاور ہائی کورٹ کل گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف پی ٹی آئی کی درخواستوں کی سماعت کرے گی — 20 اکتوبر کو فیصلہ کن دن

0
پشاور ہائی کورٹ کی عمارت

پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کی سماعت 20 اکتوبر (کل) کو مقرر کر دی ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور ایڈووکیٹ سلمان خان نے الگ الگ درخواستیں دائر کی ہیں جن میں ان اقدامات کو غیر آئینی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سماعت کب اور کیا ہوگا؟

پشاور ہائی کورٹ نے جمعہ 16 اکتوبر کو 20 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی — یہ درخواستوں کی ابتدائی سماعت ہوگی۔ دو درخواستیں دائر ہیں: بیرسٹر گوہر علی خان کی درخواست (14 اکتوبر کو علی زمان ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر) اور ایڈووکیٹ سلمان خان کی الگ درخواست۔ وکلاء کے پینل میں سمیر کھوسہ، سلمان اکرم راجہ، علی زمان، سردار حسیب احمد اور زینب شاہد شامل ہیں؛ سماعت کرنے والے بینچ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

درخواستوں میں کیا مطالبہ کیا گیا؟

آرٹیکل 199 کے تحت دائر درخواستوں میں ایمرجنسی اور گورنر راج کو “غیر آئینی، خلافِ اختیار، بدنیتی پر مبنی، ٹھوس مواد کے بغیر اور بے اثر” قرار دے کر کالعدم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ جواب دہندگان میں فیڈریشن (کابینہ ڈویژن، قانون، داخلہ اور دفاع کے سیکرٹریز)، صدرِ مملکت، وزیراعظم، گورنر فیصل کریم کنڈی، کے پی اسمبلی کے اسپیکر اور محکمہ داخلہ کے سیکرٹری شامل ہیں؛ سہیل آفریدی کو رسمی جواب دہندہ بنایا گیا ہے۔ تحریک تحفظ آئین پاکستان (ٹی ٹی اے پی) نے بھی علامہ راجہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی کے توسط سے الگ درخواست دائر کی ہے۔

پی ٹی آئی کے دلائل

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ دہشت گردی کو بنیاد بنا کر منتخب حکومت کو اختیارات سے محروم کرنا “امتیازی سلوک” ہے۔ درخواست میں سوال اٹھایا گیا ہے: بلوچستان میں دہشت گردی کے باوجود گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا؟ اور 2007 سے 2015 کے دوران خیبر پختونخوا میں کیوں نہیں؟ پی ٹی آئی کے مطابق 2024 کے عام انتخابات میں اسے کے پی میں دو تہائی اکثریت ملی اور سیاسی اختلافات پر اختیارات چھینے نہیں جا سکتے۔ درخواست میں انسدادِ دہشت گردی آپریشنز کی حمایت کا اعلان بھی کیا گیا، مگر ناکامی کے دعووں کو “سیاسی دباؤ” کا ذریعہ قرار دیا گیا۔

دوسری طرف: حکومت کا مؤقف

وفاق کا مؤقف ہے کہ “دہشت گردی کے خلاف صوبائی حکومت کی دانستہ لاتعلقی” اور خراب سکیورٹی صورتحال کے باعث یہ اقدامات ناگزیر تھے۔ 15 اکتوبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے دونوں اقدامات کی دو ماہ کے لیے منظوری دے دی تھی۔ گورنر فیصل کریم کنڈی 11 رکنی ٹیکنوکریٹک مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبہ چلا رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

20 اکتوبر کی سماعت کو ملک کی سب سے بڑی سیاسی قانونی جنگ کے اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ابھی تک درخواست گزاروں کو کوئی عبوری ریلیف نہیں دیا گیا؛ سماعت کے نتائج پر گورنر راج کے مستقبل کا دارومدار ہوگا۔

ذرائع: ڈان، جیو نیوز، پاکستان ٹوڈے، دنیا نیوز، دی نیوز (16 تا 17 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *