ورلڈ کپ 2026: ایرانی فٹبال ٹیم کو میچ کے فوراً بعد امریکہ چھوڑنے کی ہدایت

0
news-1781725812-9338

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد ایران کی قومی فٹبال ٹیم کو امریکہ  چھوڑنے کی ہدایت کی گئی جس پر ٹیم انتظامیہ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

نجی ٹی وی چینل ’’ایکسپریس نیوز‘‘ایران نے لاس اینجلس میں کھیلے گئے اپنے پہلے گروپ میچ میں نیوزی لینڈ کے خلاف 2-2 سے ڈرا کھیلا، تاہم میچ کے فوراً بعد ٹیم کو امریکہ  میں قیام کے بجائے اپنے تربیتی کیمپ واپس جانے کی ہدایت دی گئی۔

ایرانی ٹیم کے ہیڈ کوچ امیر غلینوئی نے بتایا کہ ٹیم نے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق لاس اینجلس میں رات گزارنی تھی تاکہ کھلاڑی میچ کے بعد مناسب آرام اور بحالی کا عمل مکمل کر سکیں، لیکن مقابلے کے بعد انہیں فوری طور پر روانہ ہونے کا کہا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بحالی کے لیے وقت بھی نہیں دیا گیا۔ میچ ختم ہوتے ہی ہمیں بتایا گیا کہ فوراً روانہ ہونا ہے اور تیجوانا میں اپنے کیمپ واپس جانا ہے۔ یہ صورتحال ہمارے لیے پریشان کن ہے۔

ایرانی کپتان مہدی تاریمی نے بھی سفری مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم کو تیجوانا سے لاس اینجلس پہنچنے کے دوران تقریباً 5 گھنٹے سفر اور سیکیورٹی چیکنگ میں گزارنے پڑے حالانکہ دونوں شہروں کے درمیان فاصلہ نسبتاً کم ہے۔

 ایرانی کپتان مہدی تاریمی نے فیفا سے مطالبہ کیا کہ وہ ٹیم کو بہتر سہولیات اور تعاون فراہم کرے۔  موجودہ حالات میں ٹیم کو غیر معمولی مشکلات کا سامنا ہے۔

ایران اپنے اگلے گروپ میچ میں بیلجیئم کا سامنا کرے گا جبکہ اس کے بعد مصر کے خلاف سیئٹل میں میدان میں اترے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔