ایک عدالت نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی رہنما ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔شہید شبیر بلوچ کے مقدمے میں انصاف ہوا، جنہوں نے اپنے وطن کے لیے جان دی۔ عدالت نے اس کیس میں فیصلہ سنایا ہے اور سزا سنائی گئی ہے۔

0
729820122_4367230870216425_2962950347401947460_n

کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے ایک احتجاج کے دوران سکیورٹی اہلکار شبیر کی ہلاکت کے مقدمے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور ان کے شریکِ ملزم صبغت اللہ کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کی ایک نمایاں رہنما ہیں جو لاپتہ افراد اور انسانی حقوق کے معاملات پر سرگرم رہی ہیں۔ ان کے خلاف مقدمات کی بنیاد گوادر میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے احتجاجی اجتماعات اور بعد ازاں پیش آنے والے واقعات کو بنایا گیا، جن کے دوران سکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی کی اطلاعات سامنے آئیں۔ بعد ازاں مختلف الزامات کے تحت مقدمات درج کیے گئے اور یہ معاملہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیرِ سماعت رہا، جہاں عدالت نے اپنے فیصلے میں ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور شریکِ ملزم صبغت اللہ کے خلاف فیصلہ سنایا۔

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔