عفت عمر نے شادی کی پہلی رات کیا کِیا؟ دلچسپ انکشاف

0
news-1781764443-7934

پاکستان کی معروف اداکارہ، ماڈل اور میزبان عفت عمر نے اپنی شادی کی پہلی رات سے متعلق ایک ذاتی اور دلچسپ یاد شیئر کی ہے، جس نے سب کی توجہ حاصل کرلی۔

نجی ٹی وی چینل آج نیوز کے مطابق عفت عمر اپنے کھلے اندازِ گفتگو اور سماجی موضوعات پر واضح رائے دینے کی وجہ سے جانی جاتی ہیں۔ حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں شادی کی پہلی رات کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹی وی ڈراموں میں اس موقع کو ایک خواب کے انداز میں دکھایا جاتا ہے، لیکن اصل زندگی اس سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔

انہوں نے اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’میں آپ کو بتاتی ہوں کہ میں نے اپنی شادی کی پہلی رات کیا کیا تھا۔ میں فرش پر بیٹھی اپنی سلامی کے پیسے گن رہی تھی، پھر ہم سو گئے۔ مجھے بس یہ جاننے کا تجسس تھا کہ سلامی میں کتنے پیسے ملے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اصل زندگی میں انسان اتنا تھک چکا ہوتا ہے کہ وہ ان سب چیزوں کے بارے میں نہیں سوچتا جو ڈراموں میں دکھائی جاتی ہیں۔


ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف ردعمل سامنے آئے۔ کچھ صارفین نے ان کی سادگی اور کھری بات کو دلچسپ قرار دیا جبکہ بعض لوگوں نے کہا کہ اس طرح کی ذاتی باتیں عام طور پر غیر معمولی انداز میں وائرل ہو جاتی ہیں۔

اسی گفتگو کے دوران رائٹر عدیل افضل نے بھی شادی کی رات کے مناظر لکھنے کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے۔ انہوں نے کہا کہ ڈراموں میں اس قسم کے سین لکھنا آسان نہیں ہوتا کیونکہ ناظرین کی توقعات مختلف ہوتی ہیں۔


انہوں نے کہا، ’میں نے حال ہی میں ایک ڈرامہ لکھا جس میں شادی کا سین تھا۔ شادی کی رات کا منظر لکھنے میں مجھے کئی دن لگے کہ اسے مختلف انداز میں کیسے دکھایا جائے۔ ناظرین ایسے مناظر کو پسند کرتے ہیں اور انتظار کرتے ہیں، اس لیے ہمیں اشاروں کے ذریعے کہانی آگے بڑھانی پڑتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

You may have missed

خواجہ آصف نے ویگو ڈالے والوں پر کڑی تنقید سر، یہ ہماری پارلیمنٹ لارجز ہیں جس کو ویگو ڈالوں سے بچائیں، سر۔ یہاں پر خواتین ممبران بھی، مرد حضرات بھی، ہمارے ممبران، ان کے مہمان بھی، اور فیملیز بھی واک کر رہی ہوتی ہیں۔گرین نمبر پلیٹ والے ویگو ڈالے ایسے سپیڈ کے ساتھ جارہے ہوتے جیسے ، آگ بجھانے جا رہے ہیں یہ اتنی بڑی ولگیریٹی ہے۔ ویگو ڈالا اٹس سیلف از اے ولگیریٹی۔ اس سے بڑی ولگیریٹی یہ نہیں ہونی چاہیے، جناب اسپیکر۔جو ویگو ڈالے کے اسٹیئرنگ پر بیٹھتا ہے، اس کے دماغ کو کچھ ہو جاتا ہے۔۔ وہ پیچھے گن مین ہوتے ہیں۔ میں بالکل آپ کو سیریس بات کر رہا ہوں۔ روزانہ، میں نام نہیں لینا چاہتا، میں واک کر رہا ہوتا ہوں، ابرار شاہ صاحب واک کر رہے ہوتے ہیں، یہ بڑے دوست یہاں واک کر رہے ہوتے ہیں، خواتین روزانہ واک کر رہی ہوتی ہیں۔اور دوسرا یہ ہے کہ ہمارے وزراء کو بتایا جائے کہ شام کے بعد گاڑی پر جھنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بھی بتایا جائے۔ آپ جہاں اتنے ایٹی کیٹس بتا رہے ہیں، یہ بھی بتائیں۔اور جب وزیر گاڑی میں بیٹھا ہوا نہ ہو تو جھنڈا لگا ہونا بھی نہیں چاہیے۔